تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 637
خطبہ جمعہ فرموده 26 اکتوبر 1956ء تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔جلد سوم انہیں موقع نہیں ملا لیکن تم نہیں کہہ سکتے کیونکہ تمہیں خدا تعالیٰ نے اس بات کا موقع دے دیا ہے کہ تم رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کی سی قربانیاں کرو۔اس وقت تلوار کا جہاد تھا اور اب تبلیغ اسلام کا جہاد ہے۔اس وقت عیسائیت نے اسلام کو اس قدر کمزور کر دیا ہے کہ جب تک ہم پاگلوں کی طرح باہر نہ نکلیں ، اسلام غالب نہیں آسکتا۔پھر عیسائی تعداد کے لحاظ سے بھی ہم سے دگنے ہیں ، روپیہ کے لحاظ سے وہ مسلمانوں سے ہزاروں گنا زیادہ ہیں، سیاست کے لحاظ سے بھی وہ مسلمانوں سے زیادہ طاقت ور ہیں۔پس جب تک نوجوان اپنی زندگیاں وقف کر کے باہر نہ نکلیں اور وہ دین کی خدمت کے لئے تیار نہ ہوں، اس وقت تک یہ کام نہیں ہو سکتا۔جب تک حضرت مسیح موعود علیہ السلام مبعوث نہیں ہوئے تھے، ہمارے پاس کوئی ایسا رستہ نہیں تھا، جس پر چل کر ہم صحابہ کیسی قربانیاں کرسکیں۔مگر اب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے طفیل ہمیں وہ رستہ مل چکا ہے اور آپ نے تبلیغ اسلام کا ایک سلسلہ قائم کر دیا ہے۔اب اس ذریعہ سے ہر احمدی کو موقع مل گیا ہے کہ وہ صحابہ " کی طرح کہہ سکے کہ اگر میں فلاں موقع پر ہوتا تو اس اس طرح اپنی جان اور مال کی قربانی پیش کرتا۔آخر مال کی قربانی یہ تو نہیں کہ کوئی شخص اپنی دولت لے کر گٹھڑی میں باندھے اور کنوئیں میں ڈال دے۔یا جان کی قربانی کا یہ مطلب تو نہیں کہ گلے میں رسہ ڈال کر خود کشی کر لے۔بلکہ مال کی قربانی یہ ہے کہ وہ اپنا مال اشاعت اسلام کرنے والوں کو دے۔اس طرح اس کا مال خدا تعالی کی راہ میں خرچ ہوگا اور سلسلہ کو بھی اس کا فائدہ ہوگا۔اور جان کی قربانی یہ ہے کہ وہ غیر ممالک میں تبلیغ اسلام کے لئے نکل جائے اور اپنی ساری زندگی اسی کام میں صرف کر دے۔اگر وہ ایسا کرتا ہے تو وہ خدا تعالیٰ کی برکتوں کا وارث ہو جاتا ہے۔پس تمہیں خدا تعالیٰ نے جان اور مالی قربانی کرنے کا موقع بہم پہنچادیا ہے۔بعض پچھلے علماء نے غلط فہمی سے یہ کہا ہے کہ جان کی قربانی صرف یہ ہے کہ تلوار سے جہاد کیا جائے۔حالانکہ چاہے کوئی اپنی جان کو چھری سے ذبح کرے، چاہے اسے وطن چھوڑنے کی صورت میں قربان کرے اور چاہے وہ دشمن کی گالیاں سنے اور اس کی اذیتیں برداشت کرے، یہ سب چیزیں جان کی قربانی میں شامل ہیں۔بہر حال اس وقت جو تمہیں جان اور مال قربان کرنے کا موقع ملا ہے، اس کی نظیر پچھلے زمانہ میں نہیں ملتی۔صحابہ کے زمانہ میں اس کی بے شک نظیر ملتی ہے لیکن اس کے بعد کے زمانہ میں لوگوں کو بہت کم موقع جان اور مال کو قربان کرنے کا ملا ہے۔اب پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے صحابہ کی طرح جان اور مال کو قربان کرنے کا موقع پیدا کیا ہے۔تاکہ ساری دنیا میں تبلیغ اسلام کر کے تامرون بالمعروف وتنهون عن المنکر والے حکم کو پورا کیا جاسکے۔637