تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 636
خطبہ جمعہ فرمودہ 26 اکتوبر 1956ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک ہے کہ بظاہر ایسا دعویٰ کرنے والے اپنے دعوے کو پورا نہیں کرتے۔لیکن جنگ احد میں جب وقتی طور پر مسلمانوں کو شکست ہوئی تو اس کا حضرت مالک کو پتہ نہیں لگا۔وہ اسلامی لشکر کی فتح کے وقت ہی پیچھے ہٹ گئے تھے اور چونکہ رات سے انہوں نے کچھ کھایا نہیں تھا، جب فتح ہو گئی تو وہ چند کھجوریں لے کر پیچھے کی طرف چلے گئے تا کہ انہیں کھا کر اپنی بھوک دور کریں۔وہ فتح کی خوشی میں ٹہل رہے تھے اور کھجوریں کھا رہے تھے کہ ٹہلتے ٹہلتے وہ حضرت عمرؓ کے پاس جا پہنچے اور حضرت عمرؓ کو بچوں کی طرح روتے دیکھ کر کہا، عمر! اللہ تعالیٰ نے اسلام کو فتح دی ہے اور تم اور ہے ہو؟ حضرت عمر نے کہا، مالک ! تم شاید پہلے میدان سے ہٹ آئے ہو۔بے شک دشمن بھاگ گیا تھا اور مسلمانوں نے فتح پائی تھی لیکن بعد میں دشمن نے اچانک مسلمانوں پر حملہ کیا ، جس کے نتیجہ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم شہید ہو گئے ہیں۔اس پر مالک نے کہا ، عمر! اگر یہ واقعہ ٹھیک ہے تو پھر بھی یہ رونے کا وقت نہیں۔جہاں ہمارا آقا گیا، ہمیں بھی وہیں جانا چاہئے۔ان کے ہاتھ میں اس وقت آخری کھجور تھی۔اسے نیچے پھینکتے ہوئے ، آپ نے کہا، مجھ میں اور جنت میں اس کھجور کے سوا اور کون سی چیز حائل ہے؟ یہ کہہ کر آپ نے تلوار سونت لی اور دشمن کی صفوں میں گھس گئے۔دشمن کا لشکر تین ہزار کی تعداد میں تھا۔لیکن حضرت مالک اکیلے ہی اس پر حملہ آور ہوئے اور اس کی صفوں کو چیرتے ہوئے چلے گئے ، آپ زخمی ہو کر گرتے مگر پھر کھڑے ہو جاتے اور دشمن پر حملہ کرتے۔یہاں تک کہ اس لڑائی میں آپ شہید ہو گئے۔بعد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو حکم دیا کہ وہ مالک کی لاش تلاش کریں۔لیکن باوجود تلاش کے لاش نہ ملی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبارہ ہدایت کی کہ جاؤ اور مالک کی لاش تلاش کرو۔وہ گئے لیکن پھر بھی لاش نہ ملی۔آخر تیسری دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر تلاش کا حکم دیا۔صحابہ نے کہا، یا رسول اللہ ! ہمیں ایک لاش ملی ہے، جس کے ستر ٹکڑے ہیں۔لیکن ہمیں کوئی ایسی علامت نہیں ملی، جس کی وجہ سے ہم پہچان سکیں کہ وہ لاش کس کی ہے؟ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، مالک کی بہن کو ساتھ لے جاؤ۔چنانچہ صحابہ مالک کی بہن کو ساتھ لے گئے اور اس نے ایک کٹی ہوئی انگلی کے ایک نشان سے مالک کی لاش کو پہچانا اور کہا، یہ میرے بھائی کی لاش ہے۔تو دیکھو، اسلام کے ابتدائی زمانہ میں مسلمانوں نے قربانیاں کیں تو مالک نے کہا ، اگر میں اس وقت ہوتا تو تم سے بڑھ کر قربانی کرتا۔اور پھر بعد میں جب وقت آیا تو انہوں نے اپنے اس دعوئی کو پورا کر دکھایا۔تمہارے دل میں بھی یہ خیال آتا ہوگا کہ اگر ہم فلاں موقع پر ہوتے تو یوں قربانی کرتے۔مگر اللہ تعالی نے تمہیں وہ موقع دے دیا ہے، جو دوسروں کو نہیں ملا۔اگر غیر احمدی ایسا کہیں تو وہ معذور ہیں کیونکہ 636