تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 633
تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔جلدسوم - خطبہ جمعہ فرموده 26 اکتوبر 1956ء روپیہ فی ایکڑ ہو تو ان کی آمد ساڑھے پینتالیس کروڑ روپیہ سالانہ ہو جاتی ہے۔اگر وہ اس کا چھ فی صدی چندہ دیں تو جماعت کا چندہ دو کروڑ ستر لاکھ بن جاتا ہے۔اور اگر دس فی صدی دیں تو جماعت کا چندہ چار کروڑ ، پچاس لاکھ روپیہ سالانہ بن جاتا ہے۔پھر خدا تعالیٰ کے فضل سے جماعت روز بروز بڑھ رہی ہے۔گو جماعت کے دوست تبلیغ میں سستی کرتے ہیں لیکن پھر بھی ہم دیکھتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کے فرشتے لوگوں کے کانوں میں احمدیت کی تعلیم ڈالتے رہتے ہیں اور وہ کھنچے ہوئے احمدیت کی طرف آ جاتے ہیں۔اگر ہمارے زمیندار محنت کریں تو خود بھی انہیں فائدہ ہوگا، یعنی ان کی مالی حالت بہتر ہوگی اور ان کے بچے تعلیم پائیں گے اور ساتھ ہی تبلیغ بھی ہوگی۔اور وہ کنتم خیرامۃ میں داخل ہو جائیں گے اور ان کا نام خدا تعالیٰ کے حضور پہلے نمبر پر لکھا جائے گا۔دیکھو، اگر تم زیادہ نمازیں پڑھو گے تو اس کا ثواب صرف تمہارے حساب میں لکھا جائے گا۔لیکن اگر تم زیادہ تبلیغ کرو گے تو ساری دنیا اس سے فائدہ اٹھائے گی۔اور ساری دنیا کے ثواب میں تم شریک ہو جاؤ گے۔میں دیکھتا ہوں کہ جماعت کے بعض دوست ایسے ہیں، جو شاید دوروپیہ چندہ دیتے ہیں۔لیکن جب کسی مجلس میں بیٹھتے ہیں تو بڑے فخر سے سینہ پر ہاتھ مار کر کہتے ہیں کہ ہم امریکہ میں تبلیغ کر رہے ہیں، جرمنی میں تبلیغ کر رہے ہیں، انگلینڈ میں تبلیغ کر رہے ہیں، سوئٹزر لینڈ میں تبلیغ کر رہے ہیں، انڈونیشیا میں تبلیغ کر رہے ہیں۔ان کی مثال ویسی ہی ہوتی ہے، جیسے کہتے ہیں کہ کسی زمیندار کے ہاں شادی تھی۔ہمارے ہاں رواج ہے کہ شادیوں پر لوگ نیو تا دیتے ہیں۔اس شادی پر ایک نند اور ایک بھا وجہ دو عورتیں گئیں۔نند غریب تھی، اس نے ایک روپیہ نیوتا دیا۔لیکن بھاوجہ امیر تھی ، اس نے ہمیں روپے نیو تا دیا۔کسی نے نند سے پوچھا، بہن تم نے کتنا نیو تا دیا؟ تو اس نے بڑے فخر سے کہا، میں نے بھابی، اکیس۔اسی طرح ان لوگوں کی مثال ہے۔مجالس میں بیٹھ کر وہ بڑے فخر سے کہیں گے کہ ہم فلاں فلاں ملک میں تبلیغ کر رہے ہیں۔لیکن جب ان سے پوچھا جائے کہ تم نے اس کام کے لئے کتنا چندہ دیا ہے؟ تو بعض دفعہ وہ کہیں گے، ہم نے آٹھ آنے دیئے تھے۔وہ بھول جاتے ہیں کہ یہ تبلیغ ان لوگوں کے ذریعہ ہورہی ہے، جو ہزاروں روپیہ اس کام کے لئے دے رہے ہیں۔شادیاں ہوتی ہیں، عقیقے ہوتے ہیں تو لوگ بڑے شوق سے روپیہ خرچ کرتے ہیں، اسی طرح اگر وہ اپنے دلوں میں اشاعت اسلام کی سچی تڑپ رکھیں تو تبلیغ کے لئے کیوں نہیں دے سکتے ؟ ابھی تھوڑے دن ہوئے ، مجھے افریقہ کے ایک احمدی دوست ملے۔انہوں نے کہا، آپ نے رخصتانہ کے موقعہ پرلڑکی والوں کو کھانا کھلانے کی بالکل ممانعت کر دی ہے۔حالانکہ ہمارا وہاں بہت اثر ہے 633