تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 629
تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔۔جلد سوم خطبہ جمعہ فرمودہ 26 اکتوبر 1956ء اور تنهون عن المنکر کا کام بھی ساری دنیا کے لئے ہوگا۔اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ لوگ اپنی زندگیاں اس کا کام کے لئے وقف کریں۔اور ایک جماعتی تنظیم موجود ہو، جس کے ماتحت لوگوں سے روپیہ لیا جائے اور اشاعت اسلام کے کام پر خرچ کیا جائے۔اگر ایسا نہ ہو تو یہ کام نہیں ہو سکتا۔پھر مسلمانوں کے لئے مسجد بھی ایک ضروری چیز ہے۔لیکن اگر کسی ملک میں صرف دس ہیں مسلمان ہو جائیں تو وہ مسجد کا بوجھ کیسے برداشت کر سکتے ہیں؟ ایک، ایک مسجد پر لاکھوں روپیہ خرچ آتا ہے اور دس، بیس نومسلموں کے لئے اتنی بھاری رقم جمع کرنا بہت مشکل ہے۔اس لئے وہ بوجھ بھی ہمیں ہی اٹھانا پڑے گا۔میں نے اندازہ لگایاہے کہ فی الحال ہمیں مہینے ممالک میں چالیس مساجد کی ضرورت ہے۔اور اگر ایک مسجد کی تعمیر کے اخراجات کا اندازہ دولاکھ روپیہ لگایا جائے تو ان چالیس مساجد کے لئے 80 لاکھ روپیہ کی ضرورت ہے۔پھر صرف مساجد کا تیار کرنا ہی کافی نہیں۔ان ممالک میں ہمیں اپنے مبلغ بھی رکھنے پڑیں گے اور پھر لٹریچر کی اشاعت بھی کرنی پڑے گی۔اور یہ بہت بڑا بوجھ ہے، جو جماعت کو برداشت کرنا پڑے گا۔شاید تم یہ ن کر گھبرا جاؤ اور کہو کہ ہم اتنا بوجھ کیسے برداشت کر سکتے ہیں؟ سوتمہیں معلوم ہونا چاہئے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جب بیعت لینی شروع کی تو اس وقت آپ نے چندوں کی بھی تحریک فرمائی تھی۔لیکن اس وقت کسی کو یہ خیال بھی نہیں آسکتا تھا کہ اتنا بوجھ اٹھایا جا سکتا ہے، جتنا اس وقت کو ہماری جماعت اٹھا رہی ہے۔جب حضرت خلیفة المسیح اول رضی اللہ عنہ فوت ہوئے ہیں تو اس وقت بیرونی ممالک میں سے کسی ملک میں بھی ہمارا کوئی مبلغ نہیں تھا۔گواب پیغامیوں نے یہ کہنا شروع کر دیا ہے کہ دو کنگ مسلم مشن آپ نے ہی قائم کیا تھا۔حالانکہ خواجہ کمال الدین صاحب، جو دو کنگ مسلم مشن کے بانی ہیں، ان کا اپنا بیان اخبار مدینہ بجنور میں چھپ چکا ہے کہ وو یہ مسلم مشن دو کنگ اپنی بناء، اپنے وجود، اپنے قیام کے لئے میری ذات کے سوا ا کسی اور جماعت یا شخصیت یا کسی انجمن کا مرہون احسان نہیں ہے۔میں نے اپنے ہی سرمایہ سے، جو وکالت کے ذریعہ مجھے حاصل ہوا ، اس مشن کو قائم کیا۔اس کے متعلق نہ میں نے کسی سے مشورہ حاصل کیا، نہ کسی نے مجھے مشورہ دیا۔اخبار مدینہ بجنور 21 جون 1928 ء ) یہ بیان میں نے الفضل میں بھی شائع کرا دیا تھا اور بتایا تھا کہ خواجہ صاحب کا اپنا بیان یہ ہے کہ میں اپنی مرضی سے اور اپنے روپیہ سے وہاں گیا اور اشاعت اسلام کا کام کرتارہا، اس میں کسی جماعت انجمن یا شخصیت کا احسان نہیں ہے۔629