تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 625
تحریک جدید - ایک اپنی تحریک۔۔۔جلد سوم - خطبہ جمعہ فرموده 26 اکتوبر 1956ء ہمت کر کے آگے بڑھو اور اپنی جانوں اور مالوں کو اسلام کی خاطر قربان کر دو خطبہ جمعہ فرمودہ 26 اکتوبر 1956ء تشہد، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔كُنتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَتُؤْمِنُونَ بِاللهِ وَلَوْا مَنَ اَهْلُ الْكِتُبِ لَكَانَ خَيْرًا لَّهُمْ مِنْهُمُ الْمُؤْمِنُونَ وَاَكْثَرُهُمُ الْفَسِقُونَ (ال عمران: آیت 111) میں نے گذشتہ خطبہ جمعہ میں بھی قرآن کریم کی یہ آیت پڑھی تھی اور اس کا ایک پہلو بیان کیا تھا۔آج میں اس کا ایک دوسرا پہلو بیان کرنا چاہتا ہوں۔اس دن چونکہ خدام الاحمدیہ کا اجتماع تھا، اس لئے میں نے اخرجت للناس پر زیادہ زور دیا تھا۔آج میں تامرون بالمعروف وتنهون عن المنكر پرزور دینا چاہتا ہوں۔کیونکہ میر انشاء ہے کہ آج میں تحریک جدید کے نئے سال کے چندہ کی تحریک کروں۔اس آیت میں خدا تعالیٰ نے پہلے تو مسلمانوں کو کہا ہے کہ کنتم خير امة اخرجت للناس۔یعنی تم بہترین امت ہو، جو ساری دنیا کے لئے نکالی گئی ہو۔اور اس کے بعد فرمایا، تأمرون بالمعروف و تنهون عن المنکر تم ساری دنیا کے لوگوں کو نیکی اور بھلائی کی تعلیم دیتے ہو اور برائی سے روکتے ہو۔یوں تو ہر مومن اگر وہ سچا مومن ہے تو اپنے گردو پیش میں اپنے ہمسائیوں اور ملنے والوں کو امر بالمعروف بھی کرتا ہے اور نھی عن المنکر بھی کرتا ہے۔لیکن اگر ہم اس آیت پر غور کریں تو اس میں ایک عجیب نکتہ بیان کیا گیا ہے۔خدا تعالیٰ نے اس آیت میں ان دو چیزوں کو اخرجت للناس کے بعد بیان کیا ہے۔جس کا مطلب یہ ہے کہ ہم صحیح معنوں میں اس آیت کے اسی وقت مصداق ہو سکتے ہیں، جب ہم تامرون الناس بالمعروف اور تنهون الناس عن المنكر پر عمل کریں۔یعنی ہم ساری دنیا کے لوگوں کو نیکی اور بھلائی کی تعلیم دیں اور ساری دنیا کے لوگوں کو برائی سے روکیں۔لیکن ظاہر ہے کہ ہر مومن نہ ساری دنیا میں تامرون بالمعروف پر عمل کر سکتا ہے اور نہ ساری دنیا میں تنھون عن المنکر پر عمل کر سکتا ہے۔یہ کام تنظیم کے ساتھ ہی ہو سکتا ہے۔اور تنظیم بھی ایسی ہو کہ 625