تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 620 of 802

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 620

خطبہ جمعہ فرموده 29 جون 1956ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد سوم ان کے خزانہ میں کوئی کمی آئی ہے۔اس وقت انہیں یاد بھی نہیں رہے گا کہ کسی زمانہ میں پچاس روپیہ کی بھی ضرورت ہوتی تھی تو اس کے لئے بھی دعائیں کرنی پڑتی تھیں۔تم تذکرہ پڑھو تو تمہیں اس میں یہ لکھا ہوا دکھائی دے گا کہ ایک دفعہ ہمیں پچاس روپیہ کی ضرورت پیش آئی اور جیسا کہ اہل اللہ پر کبھی کبھی ایسی حالت گزرتی ہے، اس وقت ہمارے پاس کچھ بھی نہیں تھا۔تب ہم نے وضو کیا اور جنگل میں جا کر دعا کی۔اس پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے الہام نازل ہوا کہ دیکھ میں تیری دعاؤں کو کیسے جلد قبول کرتا ہوں“ اس کے بعد ہم واپس آئے تو بازار سے گزرے اور ڈاکخانہ والوں سے پوچھا کہ کیا ہمارے نام کوئی منی آرڈر آیا ہے یا نہیں ؟ انہوں نے ایک خط دیا، جس میں لکھا تھا کہ پچاس روپے آپ کے نام بھجوا دیئے گئے ہیں۔چنانچہ اسی دن یا دوسرے دن وہ روپیہ ہمیں مل گیا۔غرض ایک زمانہ ایسا گزرا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو پچاس روپوں کے لئے بھی فکر ہوتا تھا کہ وہ کہاں سے آئیں گے اور یا اب یہ حالت ہے کہ سندھ میں جو میری اور سلسلہ کی زمینیں ہیں ، ان پر تین ہزار روپیہ ماہوار تک تنخواہوں کا ہی دینا پڑتا ہے۔گویا کجاتو یہ حالت تھی کہ پندرہ سور و پیہ ماہوار کا خرچ ساری جماعت کے لئے بوجھ سمجھا جاتا تھا اور پچاس روپیہ کی ضرورت کو اتنا شدید سمجھا جاتا تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس کے لئے خاص طور پر علیحدگی میں دعا کرنا ضروری سمجھا۔اور کجا یہ حالت ہے کهہ اسی شخص کا بٹا سینکڑوں روپیہ ماہوار اپنے کارکنوں کو تخوا میں دیتا ہے اور انجمن کے افسروں کو ملا کروہ رقم ہزاروں روپیہ کی بن جاتی ہے اور بوہ کے دفتروں کو ملا کر کوئی نوے ہزار ماہوار کی رقم بن جاتی ہے۔یہ کتنا عظیم الشان فرق ہے، جو ہر شخص کو دکھائی دے سکتا ہے۔مگر ابھی کیا ہے؟ ابھی تو صرف ہزاروں روپیہ خرچ ہو رہا ہے۔پھر کوئی وقت ایسا آئے گا کہ صدر انجمن احمد یہ اور تحریک جدید کی تین ، تین ارب کا بجٹ ہوگا۔پھر ایسا زمانہ آئے گا کہ ان کے تین تین کھرب کا بجٹ ہوگا۔یعنی صدر انجمن احمد یہ اور تحریک جدید کا سالانہ بجٹ 72 کھرب کا ہوگا۔پھر یہ بجٹ پدم پر جاپہنچے گا۔کیونکہ دنیا کی ساری دولت احمدیت کے قدموں میں جمع ہو جائے گی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے صاف طور پر لکھا ہے کہ مجھے یہ فکر نہیں کہ روپیہ کہاں سے آئے گا؟ مجھے یہ فکر ہے کہ اس روپیہ کو دیانت داری کے ساتھ خرچ کرنے والے کہاں سے آئیں گے؟ چنانچہ دیکھ لو، حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے وصیت کا نظام جاری فرمایا تو اللہ تعالیٰ نے اس میں ایسی برکت رکھ 620