تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 621 of 802

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 621

تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد سوم خطبہ جمعہ فرموده 29 جون 1956ء دی کہ باوجود اس کے کہ انجمن کے کام ایسے ہیں، جو دلوں میں جوش پیدا کرنے والے نہیں، پھر بھی صدر انجمن احمدیہ کا بجٹ تحریک جدید کے بجٹ سے ہمیشہ بڑھا رہتا ہے کیونکہ وصیت ان کے پاس ہے۔اس سال کا بجٹ بھی تحریک جدید کے بجٹ سے دو، تین لاکھ روپیہ زیادہ ہے۔حالانکہ تحریک جدید کے پاس اتنی بڑی جائیداد ہے کہ اگر وہ جرمنی میں ہوتی یا یورپ کے کسی اور ملک میں ہوتی تو ڈیڑھ ڈیڑھ، دودو کروڑ روپیہ سالانہ ان کی آمد ہوتی۔مگر اتنی بڑی جائیداد اور بیرونی ممالک میں تبلیغ اسلام کرنے کی جوش دلانے والی صورت کے باوجود محض وصیت کے طفیل صدر انجمن احمدیہ کا بجٹ تحریک جدید سے بڑھا رہتا ہے۔اسی لئے اب وصیت کا نظام میں نے امریکہ اور انڈونیشیا میں بھی جاری کر دیا ہے اور وہاں سے اطلاعات آرہی ہیں کہ لوگ بڑے شوق سے اس میں حصہ لے رہے ہیں۔گوامریکہ کے مبلغ اس معاملہ میں بہت سستی سے کام لے رہے ہیں۔میں نے سمجھا کہ چونکہ یہ خدا تعالیٰ کا قائم کردہ ایک نظام ہے، اگر اس نظام کو بیرونی ملکوں میں بھی جاری کر دیا جائے تو وہاں کے مبلغوں کے لئے اور مشنوں کے لئے اور مسجدوں کی تعمیر کے لئے بہت بڑی سہولت پیدا ہو جائے گی۔غرض یہ خدا کا ایک بہت بڑا نشان ہے، جو اس نے اپنے زندہ ہونے کے ثبوت کے طور پر تمہارے سامنے ظاہر کیا ہے۔اب تمہارا کام ہے کہ تم ان نشانات سے فائدہ اٹھاؤ اور خدا تعالیٰ کے دامن کو ایسی مضبوطی سے پکڑ لو کہ وہ تم سے کبھی جدا نہ ہو۔تمہیں اگر ایک چھوٹی سے چھوٹی چیز بھی مل جائے تو تم اسے ضائع کرنا کبھی پسند نہیں کرتے۔اگر تمہیں دو آ نے مل جائیں تو تم ان دو آنوں کا ضائع ہونا بھی برداشت نہیں کر سکتے۔اگر تمہیں کہیں سے ایک روپیل جائے تو تم اس ایک روپیہ کا ضیاع بھی برداشت نہیں کر سکتے۔اگر تمہارے پاس ایک زئیل اور مریل گھوڑا ہو تو تم اس مریل گھوڑے کو ضائع کرنا بھی پسند نہیں کرتے۔پھر یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ تمہارے پاس ایک زندہ خدا ہو اور تم اس سے غافل ہو ؟ جب تم اس کا ہاتھ پکڑ لو گے تو وہ تمہیں کبھی نہیں چھوڑے گا۔بلکہ ہر موقع پر تمہاری غیر معمولی نشانات سے تائید فرمائے گا۔اگر تمہارے جاہل باپ دادا نے یہ ضرب المثل بنائی ہوئی تھی کہ ہتھ پھڑے دی لاج رکھنا اور وہ جس کا ہاتھ پکڑ لیتے تھے، اسے کبھی نہیں چھوڑتے تھے۔تو کیا تم سمجھتے ہو کہ اگر تم نے مضبوطی کے ساتھ اپنے خدا کے دامن کو پکڑ لیا تو وہ تمہاری لاج نہیں رکھے گا؟ وہ ایسی لاج رکھے گا کہ دنیا میں کسی نے ایسی لاج نہ رکھی ہو گی۔اور وہ تمہارا اس طرح ساتھ دے گا کہ تمہارے ماں باپ نے بھی تمہارا اس طرح کبھی ساتھ نہیں دیا ہوگا“۔( مطبوعه روز نامہ الفضل 10 جولائی 1956ء) 621