تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 50
اقتباس از خطبه جمعه فرموده 27 اگست 1948ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد سوم میں آپ لوگوں کو ہوشیار کر دینا چاہتا ہوں کہ خدائی بادشاہت کا وقت قریب آرہا ہے۔اور جب خدائی بادشاہت کا وقت آتا ہے تو کمزور ایمان اور منافق لوگ کفار سے زیادہ مرتے ہیں۔جب ہلاکو خان نے بغداد پر حملہ کیا تو لوگ ایک بزرگ کے پاس گئے اور عرض کیا کہ آپ دعا کریں کہ خدا تعالیٰ ہلاکو خان سے ہمیں محفوظ رکھے۔اس بزرگ نے کہا، میں کیا دعا کروں، میں دیکھتا ہوں کہ آسمان پر سب فرشتے یہ دعا کر رہے ہیں۔ایھاالکفار اقتلوا الفجار۔ايها الكفار اقتلوا الفجار۔یعنی اے کا فرو! فاجروں کو قتل کرو۔اے کا فرو!! فاجروں کو قتل کرو۔جہاں اتنا فرشتہ دعا کر رہا ہے، وہاں میری دعائیں کیا کریں گی ؟ پس جب خدائی بادشاہت کا وقت آتا ہے تو اس قسم کے لوگ مجرموں کی صف میں کھڑے ہوتے ہیں اور کسی قسم کے انعام کے مستحق نہیں ہوتے۔جب خدائی بادشاہت قائم ہو جائے، پھر اس قسم کے لوگ بھی کامیاب ہو جاتے ہیں۔کیونکہ اس کے بعد تنزل کا وقت شروع ہو جاتا ہے اور جب تنزل کا وقت آتا ہے تو منافق بھی دولت سے حصہ لے لیتے ہیں۔جب مسلمانوں کی بادشاہت آئی تو جعفر برمکی جیسے تو وزیر بن گئے لیکن سید عبدا القادر جیلانی جیسے بزرگ تو گوشہ نشین ہی تھے۔پس دنیوی اقتدار کے وقت میں تو منافق کا میاب ہو جاتے ہیں مگر ابتدائی زمانہ میں وہ کامیاب نہیں ہو سکتے۔بلکہ بادشاہتوں کے بعد تو اکثر دولت منافق لے جاتے ہیں۔بنوامیہ کے بادشاہوں کو لے لو، وہ منافق ہی تھے، جو دنیا کو لوٹتے تھے فسق و فجور میں مبتلا ہے تھے، رشوتیں لیتے تھے ، ضیافتیں کرتے تھے۔مگر جو نیک لوگ تھے، وہ گوشہ شین ہی تھے۔لیکن محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ابی بن سلول کو تو خلافت نہیں ملی تھی۔پس اللہ تعالیٰ کا سلوک ابتدائی زمانہ میں اور ہوتا ہے اور ترقی کے زمانہ میں اور ہوتا ہے۔اس وقت دین غالب ہو جاتا ہے اور اس کے غلبہ کے لئے دنیا وی اقتدار کی ضرورت باقی نہیں رہتی ، اس لئے اگر اس وقت منافق دولت میں سے حصہ لیتے ہیں تو خدا تعالیٰ اس کی پرواہ نہیں کرتا۔لیکن جب ابتدائی زمانہ ہوتا ہے، جب دین کے غلبہ کے لئے دنیوی اقتدار کی ضرورت ہوتی ہے، اس وقت دنیوی اقتدار میں سے حصہ اس کو ملتا ہے، جو مخلص اور مومن ہو۔اس لئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ خلیفہ ہم نے بناتے ہیں۔کیونکہ ابتدائی زمانہ میں خلیفہ وہی ہونا چاہیے، جو خدا تعالیٰ کے منشا کو جاری کرے لیکن جب خدا تعالیٰ کی بادشاہت قائم ہو جاتی ہے، پھر یزید جیسے بھی بادشاہ بن جاتے ہیں۔ہزاروں ہزار ایسے فاسق ہوتے ہیں، جو بادشاہ بن جاتے ہیں مگر اولیاء اللہ کو بعض اوقات روٹی بھی نہیں ملتی۔دہلی کے تخت پر جب مسلمان بادشاہ متمکن تھے ، سید ولی اللہ شاہ صاحب جیسے بزرگ کپڑے کو بھی ترستے تھے۔آپ کو صفائی کا بہت شوق تھا اور روز کپڑے دھلوا کر بدلتے تھے۔آپ کی دنیوی حالت 50