تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 49 of 802

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 49

تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد سوم اقتباس از خطبه جمعه فرموده 27 اگست 1948ء ہم اپنے آپ کو پاگل بنادیں تو ایک سال میں ہم وہ کام کر لیں ، جس سے دنیا کی کایا ہی پلٹ جائے۔میں نے جماعت کو کئی بار توجہ دلائی ہے کہ ہر احمدی سال میں کم از کم ایک احمدی بنائے۔اور میں نے حساب لگا کر بھی بتایا تھا کہ اس طرح ہم دس پندرہ سال میں کہیں کے کہیں پہنچ جائیں گے۔اگر ہر احمدی سال میں ایک، ایک احمدی بنائے تو اس کے یہ معنی ہوں گے کہ ہم اس وقت ہندوستان میں 3لاکھ ہیں۔ایک سال کے بعد ہم 6 لاکھ ہو جائیں گے۔دو سال کے بعد 12 لاکھ ہو جائیں گے۔تین سال کے بعد 24 لاکھ ہو جائیں گے۔چار سال کے بعد 48لاکھ ہو جائیں گے۔پانچ سال کے بعد 96لاکھ ہو جائیں گے۔چھ سال کے بعد 1 کروڑ 92لاکھ ہو جائیں گے۔سات سال کے بعد 3 کروڑ 84لاکھ ہو جائیں گے۔آٹھ سال کے بعد 7 کروڑ 68 لاکھ ہو جائیں گے۔نو سال کے بعد 15 کروڑ 36لاکھ ہو جائیں گے۔دس سال کے بعد 30 کروڑ 72 لاکھ ہو جائیں گے۔تو دیکھو اگر ہر ایک احمدی سال میں ایک، ایک احمدی بنائے تو دس سال میں کتنا بڑا تغیر پیدا ہو جاتا ہے۔مگر سوال یہ ہے کہ ہم ایسا کرتے ہیں یا نہیں؟ سال میں ایک احمدی بنانا، کوئی مشکل چیز نہیں۔بشرطیکہ کوئی عقل سے کام لے اور اپنے اوپر جنون وارد کرے۔لیکن اصل میں یہ رسمی طور پر ہوتا ہے۔اگر کوئی دوست پسند آ گیا اور اس سے کوئی بات کہہ دی تو سمجھ لیا کہ اس نے سلسلہ پر بہت بڑا احسان کیا ہے۔درحقیقت دوست بنانا مقصود ہوتا ہے تبلیغ کرنا مقصود نہیں ہوتا۔اس کی غرض تو یہ ہوتی ہے کہ تعیش کے لئے کوئی بانداق آدمی مل جائے لیکن وہ سمجھتا که سلسله پر وہ احسان کر رہا ہے۔حالانکہ وہ شخص بعض اوقات اس قابل بھی نہیں ہوتا کہ اسے تبلیغ کی جائے۔اور بسا اوقات تبلیغ کی بھی نہیں جاتی۔کسی وقت وہ اگر اتنی سی بات کہہ دیتا ہے کہ فلاں ملک میں ہمارے فلاں مبلغ نے تبلیغ کی تو وہ دوست کہ دیتا ہے، واہ واہ، سبحان اللہ یہ تو بہت ہی اچھا کام ہے۔اور احمدی سمجھ لیتا ہے کہ آج وہ آدھا احمدی ہو گیا ہے۔پھر کسی دن یہ کہ دیا کہ ہم نے ایک ریسرچ انسٹیٹیوٹ قائم کی ہے تو وہ دوست کہہ دیتا ہے، سبحان اللہ بہت اچھا کام ہے۔وہ احمدی اس سے یہ نتیجہ نکال لیتا ہے کہ وہ آج تین چوتھائی احمدی ہو گیا ہے۔غرض اگر کوئی اتنی تعریف بھی کر دے، جتنی کوئی ایک گاجر کے ٹکڑے پر تعریف کر دیتا ہے تو وہ خوش ہو جاتا ہے۔آخر آپ کو دنیا کے کاموں سے اتنی محبت کیوں ہے؟ دین کی خاطر تو اتنا وقت بھی خرچ نہیں کیا جاتا، جتنا وقت کسی کی بیوی یا خادمہ روٹی پکانے میں خرچ کر دیتی ہے۔پھر یہ کیا بے ہودگی اور مداہنت ہے کہ آپ تبلیغ پر اتنا وقت بھی نہیں لگاتے ، جتنا وقت روٹی پکانے پر لگ جاتا ہے، اور پھر سمجھتے ہیں کہ ہم قربانی کرتے ہیں؟ 49