تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 616 of 802

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 616

خطبہ جمعہ فرمودہ 29 جون 1956ء تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔۔جلد سوم اور کسی نے غیر معین طور پر لکھ دیا کہ جتنے پونڈ آپ کہیں گے، ہم جمع کر دیں گے، آپ فکر نہ کریں۔دیکھو، یہ خدا تعالیٰ کی قدرتوں کا کیسا عظیم الشان ثبوت ہے کہ اس نے آپ ہی آپ سامان پیدا کرنے شروع کر دیئے اور لوگوں کے دلوں میں اخلاص اور محبت کی ایک لہر پیدا کر دی۔ورنہ انسان کے اندر کیا طاقت ہے کہ وہ کچھ کر سکے۔ہمارے لئے بس اتنا ہی کافی ہے کہ ہمیں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے طفیل ایک زندہ اور قادر خدا کا دامن پکڑنے کی توفیق مل گئی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ہمیشہ اپنے والد صاحب کا ایک قصہ سنایا کرتے تھے۔میاں بدرمحی الدین صاحب، جو بٹالہ کے رہنے والے تھے۔ان کے والد ، جن کا نام غالبا پیر غلام محی الدین تھا، ہمارے دادا کے بڑے دوست تھے۔اس زمانہ میں کمشنر موجودہ زمانہ کے گورنر کی طرح سمجھا جاتا تھا اور وہ امرتسر میں اپنا دربار لگایا کرتا تھا۔جس میں علاقہ کے تمام بڑے بڑے رؤسا شامل ہوا کرتے تھے۔ایک دفعہ امرتسر میں دربار لگا تو ہمارے دادا کو بھی دعوت آئی۔اور چونکہ انہیں معلوم تھا کہ پیر غلام محی الدین صاحب اس دربار میں شامل ہوں گے، اس لئے وہ گھوڑے پر سوار ہو کر بٹالہ میں ان کے مکان پر پہنچے۔وہاں انہوں نے دیکھا کہ ایک غریب آدمی پیر غلام محی الدین صاحب کے پاس کھڑا ہے اور وہ اس سے کسی بات پر بحث کر رہے ہیں۔جب انہوں نے دادا صاحب کو دیکھا تو کہنے لگے ، مرزا صاحب دیکھئے، یہ میراثی کیسا بے وقوف ہے؟ کمشنر صاحب کا دربار منعقد ہورہا ہے اور یہ کہتا ہے کہ وہاں جا کر کمشنر صاحب سے کہا جائے کہ گورنمنٹ نے اس کی 125 سیکٹر زمین ضبط کر لی ہے، یہ زمین اسے واپس دی جائے۔بھلا یہ کوئی بات ہے کہ دربار کا موقع ہو اور کمشنر صاحب تشریف لائے ہوئے ہوں اور ایک میراثی کو ان کے سامنے پیش کر دیا جائے اور کہا جائے کہ اس کی 125 سیکٹر زمین ضبط ہو گئی ہے، وہ اسے واپس دلا دی جائے۔چونکہ وہ پیر تھے، گو در باری بھی تھے، اس لئے انہیں یہ بات بہت عجیب معلوم ہوئی۔دادا صاحب اس میراثی سے کہنے لگے کہ تم میرے ساتھ چلو۔چنانچہ وہ اسے ساتھ لے کر امرتسر پہنچے۔جب دربار لگا اور کمشنر صاحب آگئے تو ہمارے دادا اٹھ کر کمشنر کے پاس چلے گئے اور اپنے ساتھ اس میراثی کو بھی لے لیا اور کمشنر سے کہنے لگے کہ کمشنر صاحب ذرا اس کی بانہہ پکڑ لیں۔وہ کہنے لگا، مرزا صاحب اس کا کیا مطلب؟ انہوں نے کہا، مطلب میں پھر بتاؤں گا، پہلے آپ اس کی بانہ پکڑ لیں۔چنانچہ ان کے کہنے پر اس نے میراثی کی بانہہ پکڑلی۔اس پر ہمارے دادا صاحب کہنے لگے، ہماری پنجابی زبان میں ایک مثال ہے کہ بانہہ پھڑے دی لاج رکھنا“۔کمشنر پھر حیران ہوا اور کہنے لگا، اس کا کیا مطلب؟ وہ کہنے لگے، اس کا 616