تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 611
تحریک جدید - ایک البی تحریک۔۔۔۔جلد سوم خطبہ جمعہ فرمودہ 29 جون 1956ء کہ آپ کو اسلام اور مسلمانوں کی تکلیف کی وجہ سے کس قدر دکھا ہوا ہے۔میں سوروپیہ کا چیک آپ کو بھجوار ہا ہوں ، آپ اس روپیہ کو، جس طرح چاہیں، خرچ کریں۔پھر ایک اور خط کھولا تو وہ ایک احمدی کا تھا اور اس میں یہ لکھا تھا کہ میں سور و پریہ بھجوا رہا ہوں تا کہ بیرونی مشنوں کے اخراجات میں جو کمی آئی ہے، وہ اس سے پوری ہو سکے۔پھر ایک عورت کا خط آیا کہ میں پچاس روپے بھجوار ہی ہوں تا کہ جو نقصان ہوا ہے، اس کا ازالہ ہو سکے۔پھر چوتھا خط میں نے کھولا تو اس میں ایک ترکی پروفیسر کا ذکر تھا۔ہمارا ایک احمدی ان دنوں ایک ترکی پروفیسر سے ترکی زبان سیکھ رہا ہے اور ایک سو ہیں روپیہ ماہوارا اسے ٹیوشن دیتا ہے۔وہ ترکی پروفیسر اسلام کا دشمن تھا اور رات دن اسلام اور ہستی باری تعالیٰ پر اعتراض کرتا رہتا تھا۔وہ احمدی لکھتا ہے کہ میں نے ایک دن فیصلہ کیا کہ چاہے میری پڑھائی ضائع ہو جائے ، میں نے آج اس سے مذہبی بحث کرنی ہے۔چنانچہ میں اس سے مذہبی بحث کرتا رہا اور پھر میں نے اسے آپ کا لکھا ہوادیباچہ قرآن دیا کہ وہ اسے پڑھے۔وہ دیا چہ لے گیا اور پڑھنے کے بعد مجھے کہنے لگا کہ میں آج سے پھر مسلمان ہو گیا ہوں۔پھر جب مہینہ ختم ہوا اور میں اسے روپیہ دینے کے لئے گیا تو وہ کہنے لگا کہ تم مجھ پر یہ مہربانی کرو کہ یہ روپیہ میری طرف سے اپنے امام کو بھجوادو اور انہیں کہو کہ وہ جس طرح چاہیں ، اس روپیہ کو خرچ کریں۔اب دیکھو، ایک دہر یہ انسان ہے، خدا تعالیٰ پر رات دن ہنسی اڑاتارہتا ہے، اسلام سے کوئی دلچسپی نہیں رکھتا، لیکن اس پر ایسا اثر ہوتا ہے کہ جب اسے ٹیوشن کی فیس پیش کی جاتی ہے تو وہ کہتا ہے کہ یہ روپیہ مجھے نہ دو بلکہ اپنے امام کے پاس بھیج دو اور انہیں کہو کہ وہ اسے جس طرح چاہیں، خرچ کریں۔اس کے بعد میں نے جو پانچواں خط کھولا ، وہ ایک احمدی دوست کا تھا۔جو انڈونیشیا سے بھی پرے رہتے ہیں۔انہوں نے لکھا کہ یہ اطلاع ملتے ہی کہ بیرونی مشنوں کو جو روپیہ بھجوایا جاتا تھا، اس میں کمی آگئی ہے، میں نے اڑھائی سوپاؤنڈ لندن بینک میں تحریک جدید کے حساب میں جمع کروا دیا ہے۔میری خواہش تھی کہ میں چھ سو پاؤنڈ جمع کراؤں۔مگر سر دست فوری طور پر میں نے اڑھائی سو پاؤنڈ بینک میں جمع کروا دیا ہے۔پھر چھٹا خط میں نے کھولا تو وہ ایک ایسے دوست کی طرف سے تھا، جو پاکستان سے باہر کے رہنے والے ہیں۔انہوں نے لکھا کہ آپ اس فکر میں اپنی صحت کیوں برباد کر رہے ہیں؟ ہماری جائیدادیں اور ہمارے بیوی بچے کس غرض کے لئے ہیں؟ ہم ان سب کو قربان کرنے کے لئے تیار ہیں۔آپ پونڈوں کا فکر نہ کریں۔آپ جتنے پونڈ چاہیں، ہم جمع کر دیں گے۔اور اس بارہ میں آپ کو کسی قسم کی تکلیف نہیں ہونے دیں گے۔611