تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 610 of 802

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 610

خطبہ جمعہ فرموده 29 جون 1956ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد سوم اندر توفیق نہیں پاتے۔وہ بڑے مالدار ہوتے ہیں مگر اتنا چندہ دینے کی ان میں ہمت نہیں ہوتی۔انہوں نے یہ بھی لکھا کہ اس سے پہلے جب اس چیف نے پانچ سو پاؤنڈ چندہ دیا تھا تو میں ایک شامی تاجر سے بھی ملا تھا۔میں نے اسے تحریک کی کہ وہ بھی اس کام میں حصہ لے اور میں نے اسے کہا کہ فلاں گاؤں کا جور ٹیکس ہے ، اس نے پانچ سو پاؤنڈ چندہ دیا ہے۔وہ کہنے لگا کہ میری طرف سے بھی آپ پانچ سو پاؤنڈلکھ لیں اور پھر کہا کہ میں اس وقت پانچ سو پاؤنڈ لکھواتا ہوں مگر میں دوں گا، اس چیف سے زیادہ۔یہ کتنا بڑا ثبوت ہے، اس بات کا کہ ہمارا خدا، ایک زندہ خدا ہے۔ایک معمولی گاؤں کا چیف ہے اور پھر احمدیت کا اتنا مخالف ہے کہ کہتا ہے، اگر در یا الٹا چلنے لگے تو یہ مکن ہے لیکن یہ ممکن ہی نہیں کہ میں احمدی ہو سکوں۔مگر پھر خدا تعالیٰ اسے احمدیت میں داخل ہونے کی توفیق عطافرماتا ہے اور نہ صرف احمدیت میں داخل ہونے کی توفیق عطا فرماتا ہے بلکہ یکدم اسے ہزاروں روپیہ سلسلہ کو پیش کرنے کی توفیق مل جاتی ہے۔یہ تو ایک بیرونی ملک کی مثال ہے، جو بتاتی ہے کہ ہمارا خدا کس طرح ایک زندہ خدا ہے؟ اور وہ اپنے بندوں کی کیسے معجزانہ رنگ میں تائید اور نصرت فرماتا ہے؟ اب میں اپنی مثال بیان کرتا ہوں، میں نے پچھلے دنوں تحریک جدید کے بیرونی مشنوں کے متعلق ایک خطبہ پڑھا تھا، جس میں ، میں نے ذکر کیا تھا کہ تحریک جدید کے پاس بیرونی مشنوں کے لئے اتنا کم روپیہ رہ گیا ہے کہ شاید اب ہمیں اپنے مشن بند کرنے پڑیں۔مگر ادھر میں نے یہ خطبہ پڑھا اور ادھر اللہ تعالیٰ کا فضل دیکھو کہ ایک دن میں نے ڈاک کھولی تو اس میں ہمارے ایک مبلغ کا خط نکلا، جس میں اس نے لکھا کہ ایک جرمن ڈاکٹر نے احمدیت کے متعلق کچھ لٹریچر پڑھا اور اس نے ہمیں لکھا کہ مجھے اور لٹریچر بھجواؤ۔چنانچہ اس پر میں نے آپ کا لکھا ہوا، دیباچہ قرآن اسے بھجوا دیا۔دیباچہ پڑھ کر اس نے لکھا کہ میں چاہتا ہوں کہ اس کو اپنے ملک پر چھاپا جائے اور بڑی کثرت سے یہاں پھیلایا جائے۔اور میں اس بارہ میں آپ کی ہر طرح مدد کرنے کے لئے تیار ہوں۔پھر اس نے لکھا کہ یہاں ہیں لاکھ جرمن نسل کے مسلمان پائے جاتے ہیں، اگر دیباچہ کا یہاں کی زبان میں ترجمہ ہو جائے تو ہیں لاکھ مسلمان عیسائیوں کے ہاتھ میں جانے سے بچ جائے گا اور وہ احمدیت کو قبول کر لے گا۔گویا ہم تو یہ ڈر رہے تھے کہ کہیں خدانخواستہ ہمارے پہلے مشن بھی بند نہ ہو جائیں اور اللہ تعالیٰ نے ہماری تبلیغ کے لئے نئے راستے کھول دیئے۔پھر جب خطبہ شائع ہوا تو باہر سے بھی اور اندر سے بھی ہمارے خدا کے زندہ ہونے کی کثرت سے مثالیں ملنی شروع ہو گئیں۔ایک غیر احمدی کا خط آیا کہ میں نے آپ کا خطبہ پڑھا تو میرا دل کانپ گیا۔610