تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 607 of 802

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 607

تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد سوم خطبہ جمعہ فرمودہ 29 جون 1956ء ہمارا خدا، ایک زندہ خدا ہے اور ہمیشہ زندہ رہے گا خطبہ جمعہ فرمودہ 29 جون 1956ء سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔" آج میں اس مضمون پر خطبہ دینا چاہتا ہوں کہ ہمارا خدا، ایک زندہ خدا ہے۔یہ در حقیقت سورہ فاتحہ کا ایک حصہ ہے مگر مسلمانوں کی توجہ اس کی طرف نہیں پھری۔مثلاً جب ہم الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ مضمون کہتے ہیں تو پرانے مفسرین بھی اس تفسیر میں لگ جاتے ہیں اور ہم بھی یہی تفسیر شروع کر دیتے ہیں کہ ہمارا خدا، انسانوں کا بھی خدا ہے اور جانوروں کا بھی خدا ہے اور کیڑوں مکوڑوں کا بھی خدا ہے۔اسی طرح وہ ہندوستانیوں کا بھی خدا ہے اور ایرانیوں کا بھی خدا ہے اور امریکینوں کا بھی خدا ہے۔اور ہمیں یہ بھول جاتا ہے کہ رب العالمین میں جن جہانوں کا ذکر کیا گیا ہے، وہ زمانہ کے لحاظ سے بھی ہو سکتے ہیں۔پس اس کے ایک معنی یہ بھی ہیں کہ وہ خدا آدم علیہ السلام کے زمانہ کے لوگوں کا بھی خدا تھا۔اور وہ خدا نوح علیہ السلام کے زمانہ کے لوگوں کا بھی خدا تھا۔اور وہ خدا ابراہیم علیہ السلام کے زمانہ کے لوگوں کا بھی خدا تھا۔اور وہ خدا موسیٰ علیہ السلام کے زمانہ کے لوگوں کا بھی خدا تھا۔اور وہ خدا عیسی علیہ السلام کے زمانہ کے لوگوں کا بھی خدا تھا۔اور وہ خدا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کے لوگوں کا بھی خدا تھا۔اور وہ خدا ہمارے زمانہ کے لوگوں کا بھی خدا ہے۔اور وہ خدا بعد میں آنے والے لوگوں کا بھی خدا ہوگا۔اور جو خدا آدم علیہ السلام کے زمانہ کے لوگوں کا بھی خدا تھا اور ہمارے زمانہ کے لوگوں کا بھی خدا ہے اور بعد میں آنے والے لوگوں کا بھی خدا ہوگا، صاف ثابت ہوتا ہے کہ وہ ایک زندہ خدا ہے۔اگر وہ زندہ خدا نہ ہوتا تو آدم سے لے کر اب تک ہر زمانہ کے لوگوں کا وہ کس طرح خدا ہو سکتا ؟ پر الحمد لله رب العالمین میں اس بات پر بھی زور دیا گیا ہے کہ قرآن ، جو خدا کو پیش کرتا ہے ، وہ ایک زندہ خدا ہے۔اور ہر زمانہ کے لوگ اس سے ویسا ہی فائدہ اٹھا سکتے ہیں ، جیسے پہلے لوگ فائدہ اٹھاتے رہے ہیں۔607