تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 608 of 802

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 608

خطبہ جمعہ فرمودہ 29 جون 1956ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد سوم چنانچہ اس ہفتہ میں مجھے ایک مبلغ کی طرف سے ایک چٹھی آئی ہے، جس سے پتہ لگتا ہے کہ کس طرح ہمارا خدا، ایک زندہ خدا ہے۔اس کے بعد اپنا ایک ذاتی واقعہ اس کے ثبوت کے طور پر بیان کروں گا۔وہ لکھتے ہیں کہ ہم نے یہاں اخبار جاری کیا اور چونکہ ہمارے پاس کوئی پر لیس نہیں تھا ، اس لئے عیسائیوں کے پریس میں وہ اخبار چھپنا شروع ہوا۔دو چار پر چوں تک تو وہ برداشت کرتے چلے گئے لیکن جب یہ سلسلہ آگے بڑھا تو پادریوں کا ایک وفد اس پریس کے مالک کے پاس گیا اور انہوں نے کہا تمہیں شرم نہیں آتی کہ تم اپنے پریس میں ایک احمدی اخبار شائع کر رہے ہو، جس نے عیسائیوں کی جڑوں پر تبر رکھا ہوا ہے۔چنانچہ اسے غیرت آئی اور اس نے کہہ دیا کہ آئندہ میں تمہار اخبار اپنے پریس میں نہیں چھاپوں گا کیونکہ پادری اس پر برا مناتے ہیں۔جب اخبار چھپنا بند ہو گیا تو عیسائیوں کو اس سے بڑی خوشی ہوئی اور انہوں نے ہمیں جواب دینے کے علاوہ اپنے اخبار میں بھی ایک نوٹ لکھا کہ ہم نے تو احمدیوں کا اخبار چھاپنا بند کر دیا ہے۔اب ہم دیکھیں گے کہ اسلام کا خدا ان کے لئے کیا سامان پیدا کرتا ہے؟ یعنی پہلے ان کا اخبار ہمارے پر لیس میں چھپ جایا کرتا تھا، اب چونکہ ہم نے انکار کر دیا ہے اور ان کے پاس اپنا پر لیس کوئی نہیں، اس لئے اب ہم دیکھیں گے کہ یہ جو سیح کے مقابلہ میں اپنا خدا پیش کیا کرتے ہیں ، اس کی کیا طاقت ہے؟ اگر اس میں کوئی قدرت ہے تو وہ ان کے لئے خود سامان پیدا کرے۔وہ مبلغ لکھتے ہیں کہ جب میں نے یہ پڑھا تو میرے دل کو سخت تکلیف محسوس ہوئی اور میں نے سمجھا کہ گو ہماری یہاں تھوڑی سی جماعت ہے، لیکن بہر حال میں انہی کے پاس جا سکتا ہوں اور کہہ سکتا ہوں کہ اس موقع پر وہ ہماری مدد کریں تا کہ ہم اپنا پریس خرید سکیں۔چنانچہ وہ کہتے ہیں، میں نے لاری کا ٹکٹ لیا اور پونے تین سو میل پر ایک احمدی کے پاس گیا تا کہ اسے تحریک کروں کہ وہ اس کام میں حصہ لے۔یہ شخص ، جس کے پاس ہمارا مبلغ گیا، کسی زمانہ میں احمدیت کا شدید مخالف ہوا کرتا تھا۔اتنا سخت مخالف کہ ایک دفعہ کوئی احمدی اس کے ساتھ دریا کے کنارے جارہا تھا کہ اس احمدی نے اسے تبلیغ شروع کر دی۔وہ دریا کی طرف اشارہ کر کے کہنے لگا کہ دیکھو، یہ دریا ادھر سے ادھر بہ رہا ہے۔اگر یہ دریا یک دم اپنا رخ بدل لے اور نیچے سے اوپر کی طرف الٹا بہنا شروع کر دے تو یہ ممکن ہے لیکن میرا احمدی ہونا ناممکن ہے۔مگر کچھ دنوں کے بعد ایسا اتفاق ہوا کہ کوئی بڑا عالم فاضل نہیں بلکہ ایک لوکل افریقن احمدی اس سے ملا اور چند دن اس سے باتیں کیں تو وہ احمدی ہو گیا۔پھر اللہ تعالیٰ نے بھی اس کی مدد کی اور اس کی مالی حالت پہلے سے بہت اچھی ہوگئی۔وہ افریقن اپنے گاؤں کا چیف رئیس ہے۔مگر ہمارے ملک کے رئیسوں اور ان کے رئیسوں میں فرق ہوتا ہے۔ان کے رئیس اور چیف عموماً ایسے ہی ہوتے ہیں، جیسے ہمارے ہاں نمبر دار اور سفید پوش ہوتے 608