تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 605 of 802

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 605

تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد سوم خطبہ جمعہ فرمودہ 09 مارچ 1956ء حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ کی بات ہے۔ایک میراثی کا لڑکاسل کی مرض میں مبتلا ہو گیا۔اس کی ماں اسے علاج کے لئے قادیان لائی۔وہ لڑکا عیسائی ہو چکا تھا اور اس کی والدہ کی خواہش تھی کہ وہ کسی طرح دوبارہ اسلام قبول کر لے۔اس نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے درخواست کی کہ آپ نہ صرف اس کا علاج کریں بلکہ اسے تبلیغ بھی کریں تاکہ یہ دوبارہ اسلام میں داخل ہو جائے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اسے بہت سمجھایا لیکن وہ نہ سمجھا۔آخر ایک رات بیماری کی حالت میں ہی وہ بٹالہ کی طرف بھاگ نکلا تا کہ وہاں عیسائیوں کے مرکز میں چلا جائے۔اس کی ماں کی آنکھ کھلی اور اس نے چار پائی خالی دیکھی تو وہ رات کے اندھیرے میں اکیلی بٹالہ کی طرف دوڑ پڑی اور کئی میل کے فاصلہ سے اسے پکڑ کر لے آئی۔پھر وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوئی اور روتی ہوئی کہنے لگی ، حضور میرا یہ اکلوتا بیٹا ہے، اگر یہ مرجائے تو مجھے اس کی کوئی پرواہ نہیں۔لیکن میری صرف اتنی خواہش ہے کہ جس طرح بھی ہو، یہ مرنے سے پہلے دوبارہ کلمہ پڑھ لے۔اللہ تعالیٰ نے اس عورت کے اخلاص کو دیکھ کر یہ فضل کیا کہ دو، تین دن کے بعد اس نے اسلام قبول کر لیا اور پھر وہ فوت ہو گیا۔پس اگر باطل کے ساتھ محبت کرنے والے بھی بڑی بڑی قربانیاں کر سکتے ہیں تو دین کے ساتھ سچی محبت رکھنے والے کسی قسم کی قربانی سے کس طرح دریغ کر سکتے ہیں؟ بہر حال دوستوں نے جو باتیں لکھی ہیں، ان میں سے بعض بہت اچھی ہیں۔مثلاً یہ کہ واقفین کو کوئی نہ کوئی پیشہ سکھانا چاہئے۔اور پھر یہ کہ جماعت کے دوستوں کو چاہئے کہ وہ واقفین کا اعزاز کریں۔مگر جیسا کہ میں نے بتایا ہے کہ خود واقفین کے اندر انتظامی قابلیت ہونی چاہئے۔اگر ان میں انتظامی قابلیت ہوگی تو انہیں مرکز میں ذمہ داری کے عہدے مل سکیں گے۔انگریزی دانوں سے ہماری کوئی دوستی نہیں اور نہ عربی والوں سے ہماری کوئی دشمنی ہے۔اگر واقفین انتظامی قابلیت پیدا کر لیں تو در حقیقت مرکز کے سارے اہم عہدے انہی کے لئے ہیں اور وہی اس کے اصل حق دار ہیں۔پھر سب سے بڑی بات یہ ہے کہ آپ لوگ دعا کریں کہ خدا تعالیٰ آپ لوگوں کو سچا ایمان بخشے ، آپ کے اندر دین کی خدمت کی خواہش پیدا کرے۔تا آپ اپنی جان اور مال سب کچھ اپنے خدا کے سامنے پیش کر دیں۔اور جب مریں تو ایسی حالت میں مریں کہ آپ کے دلوں میں یہ حسرت نہ ہو کہ کاش ہم دین کی خدمت کرتے۔اللہ تعالیٰ ہماری کوتاہیوں کو دور فرمائے اور ہماری خدمات کو قبول کرے۔اور حضرت ابو بکر کی طرح ہمیں اس بات کی توفیق دے کہ تھوڑایا بہت جو کچھ بھی ہمارے پاس ہے، وہ ہم اس کی راہ میں قربان کر دیں۔605