تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 601
تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد سوم خطبہ جمعہ فرمودہ 09 مارچ 1956ء کر رہے ہیں۔اگر انہوں نے اپنے اندر قابلیت پیدا کر لی تو نہ صرف جماعت میں ان کا وقار بڑھے گا بلکہ یہ فن بھی ترقی کرے گا۔جب انہیں جماعتوں میں بھیجا جائے گا تو وہ تبلیغ کے ساتھ جماعت کے زمینداروں کی اقتصادی حالت کو بھی بہتر بناسکیں گے۔اسی طرح ڈرائیونگ کا پیشہ بہت مفید ہے۔کالج والوں کو چاہئے کہ وہ ہر واقف کو ڈرائیونگ کا کام سکھا دیں۔جن لوگوں کو شوق ہوتا ہے، وہ بڑی آسانی سے یہ فن سیکھ لیتے ہیں۔پھر ڈرائیونگ کا کام سکھانے کے بعد انہیں موٹر مکینک کا کام سکھانا چاہئے۔غیر ملکوں میں ڈرائیونگ کا کام جاننے والے کی بہت قدر ہوتی ہے۔وہاں ڈرائیور ملنا مشکل ہوتا ہے۔اس لئے اگر کوئی خود ڈرائیونگ جانتا ہو تو اسے کوئی مشکل پیش نہیں آتی۔یورپ کے سفر کے دوران میں ، میں نے ایک موٹر ڈرائیور سے دریافت کیا کہ یہاں گھروں میں کام کرنے والے ڈرائیوروں کی کیا تنخواہ ہے؟ تو اس نے بتایا کہ یہاں ان کی تنخوا ہیں۔/900 روپیہ ماہوار ستک ہیں۔پھر میں نے دریافت کیا کہ ٹیکسی ڈرائیوروں کی کیا تنخواہ ہے؟ تو اس نے بتایا ٹیکسی ڈرائیوروں کی تنخواہ 500 روپے ماہوار تک ہے۔میں نے کہا، گھر کے ڈرائیور کو تو دن میں کسی وقت ڈرائیونگ کرنی پڑتی ہے اور تمہیں سارا دن ڈرائیونگ کرنی پڑتی ہے، پھر تمہاری اور گھر کے ڈرائیوروں کی تنخواہوں میں اس قدر فرق کیوں ہے؟ تو اس نے بتایا کہ ہمیں وقتاً فوقتاً انعام بھی ملتے رہتے ہیں اور انعاموں کو ملا کر ہماری تنخواہ ہزار روپیہ ماہوار سے بھی زیادہ ہو جاتی ہے لیکن گھر کے ڈرائیور کو کوئی انعام نہیں ملتا، اس لئے اس کی تنخواہ ٹیکسی ڈرائیور سے زیادہ ہوتی ہے۔پس ڈرائیونگ اور مستری کا کام بہت مفید پیشہ ہے اور کالج والوں کو چاہئے کہ وہ اپنے طلباء کو ان پیشوں کی تعلیم دیں۔ہمارے علماء نے پچھلے بزرگوں کی کتابیں پڑھی ہیں، ان میں عموماً یہ لکھا ہوتا ہے کہ فلاں بزرگ، جو بہت بڑے عالم تھے اور دنیا کے کناروں سے لوگ ان کے پاس آتے تھے ، موزوں کی مرمت کیا کرتے تھے یا جوتیاں گانٹھ کر روزی کمایا کرتے تھے۔فلاں بزرگ ٹوکریاں بنایا کرتے تھے۔غرض ہر شخص کوئی نہ کوئی پیشہ جانتا تھا۔اس چیز کا اہل عرب پر اتنا اثر ہوا کہ آج تک وہ اپنے پیشے گناتے ہیں۔ان میں چاہے کوئی وزیر اعظم ہو تب بھی وہ اپنے نام کے ساتھ اپنا پیشہ لگائے گا اور اسے وہ بالکل برا نہیں سمجھے گا۔پس طلباء کو مختلف ہنر سیکھنے چاہئیں ، اسی طرح اگر علماء مختلف پیشے سیکھ لیں تو جماعت میں بھی ان پیشوں کی قدر ہو جائے گی۔پھر ایک دوست نے لکھا ہے کہ عورتوں کو ڈاکٹری پڑھا کر ان کی واقفین زندگی سے شادی کر دینی چاہئے۔مگر یہ عجیب بات ہے کہ ایک طرف تو یہ کہا جاتا ہے کہ واقفین زندگی کو جماعت بنظر استحسان نہیں 601