تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 48 of 802

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 48

اقتباس از خطبه جمعه فرموده 27 اگست 1948ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد سوم آئے ، حضرت موی وعیسی علیہا السلام کو دوبارہ لے آئے مگر کیا وہ ایسا کرتا ہے؟ اور اگر وہ ایسانہیں کرتا تو محض یہ کہہ دینا کہ وہ ایسا کر دے گا، درست نہیں۔وہ اپنے قانون کو تمہارے لئے کیوں توڑ دے گا ؟ اس کا یہ قانون ہے کہ اگر اس کا کسی سے وعدہ ہے تو وہ قربانی کرے اور اس کے لئے جدو جہد کرے تو وہ اس کی مدد کرے گا اور وہ کامیاب ہو جائے گا۔جو لوگ ایسا کرتے ہیں، وہ کامیاب ہو جاتے ہیں۔یا کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں، جو ایسا کرتے ہیں، خدا تعالیٰ ان کی مدد کرتا ہے اور وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔اور جولوگ ایسا نہیں کرتے ، ان کو وہ مرتد اور بے ایمان بنا دیتا ہے، ان کا ایمان سلب ہو جاتا ہے۔پس ہماری جماعت کو اپنے اندر یہ احساس پیدا کر لینا چاہیے کہ ہم اس چیز کی امید نہیں رکھ سکتے ، جو پہلے نبیوں کے ساتھ نہیں ہوئی۔پہلے انبیاء کی جماعتوں کو قربانیاں کرنی پڑیں، پہلے انبیاء کے ماننے والے اپنے ملک اور قوم میں مجنون کہلاتے تھے۔قرآن کریم اس قسم کے واقعات سے بھرا پڑا ہے۔پس جب تک ہم پہلی جماعتوں کی طرح قربانیاں نہیں کرتے ، پہلی جماعتوں کی طرح جب تک ہم مجنون نہیں کہلاتے ، ہم کیسے کامیاب ہو سکتے ہیں؟ اگر آپ اپنے گھر جاتے ہوئے، اپنی حفاظت کے لئے ادھر ادھر نظر مارتے جاتے ہیں اور ڈر کی وجہ سے تبلیغ نہیں کرتے ، دین کی خدمت کی طرف توجہ نہیں کرتے تو ہم مجنون نہیں کہلا سکتے۔مجنون کے تو معنی ہی یہ ہیں کہ وہ اپنی عاقبت کی پرواہ نہیں کرتا۔پھر بعض لوگ یہ بھی کہہ دیتے ہیں کہ اس کا طرح نوکریاں جاتی رہیں گی ،تجارتیں ضائع ہو جائیں گی اور پھر جماعت کے پاس روپیہ کم ہو جائے گا، جماعت کے اخراجات کیسے چلیں گے؟ ایسے لوگوں کو یا درکھنا چاہیے کہ ہم مال کے ذریعہ دنیا کے مقابلہ میں جیت نہیں سکتے۔امریکہ کا ایک مالدار ہماری جماعت کی تمام جائیدادیں خرید سکتا ہے اور پھر بھی اس کے خزانے میں روپیہ رہتا ہے۔امریکہ کے بعض مالداروں کے پاس ہماری ساری جماعت سے زیادہ روپیہ ہے۔بعض کے پاس تو ہیں، ہمیں ارب روپیہ ہے اور اتنا روپیہ ہماری ساری جماعت کے پاس نہیں۔ان میں ایسے لوگ سینکڑوں کی تعداد میں پائے جاتے ہیں، جن کے پاس اربوں روپیہ ہے۔وہ لوگ ڈالروں میں اس کا ذکر کرتے ہیں کہ فلاں کے پاس ہزار ملین ہیں، فلاں کے پاس دو ہزار ، فلاں کے پاس تین، چار یا پانچ ہزار ملین ڈالر ہے۔اور یہ تین ارب روپیہ سے لے کر پندرہ ارب روپیہ تک ہو جاتا ہے۔ایسی قوم کا مقابلہ تم دولت سے کس طرح کر سکتے ہو؟ پھر ہمارے پاس دنیاوی طاقت بھی نہیں۔پیشوں کو لے لو تجارت کو لے لو، تعلیم کو لے لو، صنعت و حرفت کو لے لو کسی چیز میں بھی تو ہم غالب نہیں آسکتے۔پس اگر ہم دنیوی لحاظ سے دیکھیں تو سیدھی بات ہے کہ ہم دوسری قوموں پر غالب نہیں آسکتے۔اگر ہم غالب آ سکتے ہیں تو محض اس طرح سے کہ ہم دین کو دنیا پر مقدم کر کے اپنے آپ کو پاگل بنا دیں۔اگر 48