تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 596
خطبہ جمعہ فرمودہ 09 مارچ 1956ء تحریک جدید - ایک الهی تحریک۔۔۔جلد سوم ہوئی کتابوں کا مطالعہ کریں اور اچھی اور مفید باتوں کو اخذ کرنے کی کوشش کریں تو مرکز کے انتظامی عہدوں پر بھی انہیں لگایا جاسکتا ہے۔عیسائیوں کو دیکھ لو، ان میں اکثر انتظامی عہدے پادریوں کے ہی سپر د ہوتے ہیں۔اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ان کی تعلیم کا معیار بھی وہی ہوتا ہے، جو انتظامی محکموں میں کام کرنے والے عہد یداروں کا ہوتا ہے۔یورپ کی تاریخ پڑھو تو تمہیں معلوم ہوگا کہ پرانی حکومتوں میں وزیر اعظم ، وزیر جنگ اور وزیر خزانہ کے عہدوں پر پادری ہی مقرر کئے جاتے تھے۔جب فرانس کی طاقت پورے جو بن پر تھی ، اس کا وزیر خزانہ ایک پادری تھا۔جب بھی مالی لحاظ سے بادشاہ کو کوئی دقت پیش آئی، وزیر خزانہ اسے دور کرتا تھا اور مشکلات کو دور کرنے کی وہ کوئی نہ کوئی صورت نکال لیتا تھا۔اسی طرح اور بھی کئی بادشاہ گزرے ہیں، جن کی حکومتوں کے نظم و نسق میں پادریوں کو خاص دخل حاصل تھا۔جب انتظامی محکموں کے افسر فیل ہو جاتے تھے تو پادری حکومت کو قائم رکھنے میں مدد دیتے تھے۔پس اگر واقفین اپنے اندرا نتظامی قابلیت پیدا کرلیں تو اس کی وجہ سے جماعت میں ان کا اعزاز خود بخود بڑھ جائے گا۔انگلستان کے عیسائی اگر چہ پروٹسٹنٹ ہیں، کیتھولک نہیں لیکن پھر بھی وہاں پادریوں کے اثر کی یہ کیفیت ہے کہ ایڈورڈ ہشتم نے جب ایک مطلقہ عورت سے شادی کا ارادہ کیا تو گوہ عورت پہلے بھی شاہی دعوتوں میں شریک ہوا کرتی تھی اور سب کو اس کا علم تھا۔لیکن پادریوں نے اس پر اعتراض کرنا شروع کر دیا اور کہا کہ یہ بات چرچ کے دستور کے خلاف ہے۔ان پادریوں کا اتنا اثر تھا کہ باوجود اس کے کہ مسٹر چرچل بادشاہ کی تائید میں تھے، تمام وزراء نے یہ نوٹس دے دیا کہ اگر بادشاہ نے اس عورت سے شادی کی تو ہم استعفیٰ دے دیں گے۔نتیجہ یہ ہوا کہ بادشاہ اس بات پر مجبور ہو گیا کہ تخت کو چھوڑ دے۔حالانکہ وہ اپنی رعایا کو انتہائی محبوب تھا۔پس ہمارے مبلغین کو بھی چاہئے کہ وہ اپنے اندر انتظامی قابلیت پیدا کریں تا کہ انہیں مرکزی عہدوں پر لگایا جا سکے۔اگر ان میں قابلیت پیدا ہو جائے تو جب انہیں ناظر یا نائب ناظر کے عہدہ پر مقرر کیا جائے گا تو وہ بڑے بڑے وزراء کو بھی بے دھڑک مل سکیں گے۔اسی طرح انہیں اخبارات کا بھی مطالعہ کرنا چاہیئے۔لیکن دوسروں سے خریدے ہوئے اخبارات نہ ہوں بلکہ قربانی کر کے خود اخبارات خریدا کریں اور ان کا مطالعہ کیا کریں۔یہ نہیں کہ دفتر گئے اور وہاں اخبار پڑی دیکھی تو اس کو پڑھنا شروع کر دیا۔انہیں چاہئے کہ خواہ کتنا ہی تنگ گذارہ کیوں نہ کرنا پڑے، اخبار خود خرید کر پڑھیں۔میں اپنے بچپن کے زمانہ میں بھی اخبار خود خریدا کرتا تھا۔حالانکہ اس وقت مجھے صرف تین روپیہ ماہوار جیب خرچ ملا کرتا تھا۔مجھے انگریزی زبان سے دلچسپی بھی انہیں اخبارات کے مطالعہ کی وجہ سے 596