تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 593
تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد سوم خطبہ جمعہ فرمودہ 09 مارچ 1956ء اے خدا! اگر تو مجھے بحفاظت نیچے اترنے کی توفیق دے دے تو میں ایک اونٹ کی قربانی کروں گا۔اور یہ کہہ کر اس نے نیچے اترنا شروع کیا۔جب وہ ایک تہائی کے قریب نیچے اتر آیا تو اتفاقا وہاں کوئی چھوٹی سی شاخ تھی ، اس پر سہارا لے کر پھر اس نے نیچے کی طرف دیکھا تو زمین اب قریب تھی اور اسے پہلے کی طرح بھیا تک دکھائی نہیں دیتی تھی۔اس کا ڈر کچھ کم ہوا تو کہنے لگا ، اتنے فاصلہ کے لئے اونٹ کی قربانی تو بہت زیادہ ہے، اگر میں نیچے چلا گیا تو بطور شکرانہ ایک گائے ضرور قربان کروں گا۔اور پھر اترنا شروع کیا۔جب وہ ایک تہائی فاصلہ اور نیچے آ گیا تو اس نے زمین کی طرف دیکھا۔اب زمین اسے پہلے سے بھی زیادہ قریب دکھائی دی اور اس نے خیال کیا کہ گائے کی قربانی تو بہت زیادہ ہے، اگر میں نیچے پہنچ جاؤں تو ایک بکری کی قربانی تو ضرور کروں گا۔اور پھر اترنا شروع کیا۔جب وہ زمین سے صرف تین چار گز کے فاصلہ پر آگیا تو کہنے لگا، اتنے فاصلہ کے لئے ایک بکری کی قربانی بھی بہت زیادہ ہے، اگر نیچے پہنچ گیا تو ایک مرغی کی قربانی ضرور کروں گا۔جب وہ ایک دوگز اور نیچے آ گیا تو اسے مرغی کی قربانی بھی بڑی معلوم ہوئی۔اور کہنے لگا، مرغی نہ سہی ، ایک انڈا تو خدا تعالیٰ کی راہ میں دے ہی دوں گا۔جب وہ زمین پر پہنچ گیا تو اس نے اپنی شلوار میں سے ایک جوں نکالی اور اسے مار کر کہنے لگا، جان کے بدلے جان، چلو قربانی ہوگئی۔یہی حال ان لوگوں کا ہے، جو اپنے بچوں کو چھوٹی عمر میں تو وقف کر دیتے ہیں لیکن اگر ان میں کو سے کوئی ہوشیار ہو تو کہہ دیتے ہیں یہ تو ہماری بات نہیں مانتا، دوسرے بچہ کو وقف کر دیں گے۔لیکن پھر دوسرے کے متعلق خط آجاتا ہے کہ اس کی صحت کمزور ہے، اس کے وقف کا کوئی فائدہ نہیں۔کئی لوگ ایسے ہیں، جن کے چھ، چھ بچے تھے اور انہوں نے کہا کہ یہ چھ کے چھ بچے دین کی خدمت کے لئے وقف ہیں۔لیکن اب وہ چھ کے چھ دنیا کے کاموں میں لگے ہوئے ہیں۔پس اس دوست کی یہ بات بالکل درست ہے کہ والدین کو چاہئے کہ وہ بچپن سے ہی اپنے بچوں کے دلوں میں یہ بات ڈالنا شروع کر دیں کہ بڑے ہو کر انہوں نے دین کی خدمت کرنی ہے۔اس نے یہ بھی کہا ہے کہ اس کام میں عورتیں بہت مدد دے سکتی ہیں۔اس وقت مسجد میں عورتیں بھی بیٹھی ہیں۔میں انہیں بھی توجہ دلاتا ہوں کہ وہ اس بات کا خیال رکھیں اور بچپن سے ہی بچوں کے کانوں میں یہ ڈالنا شروع کر دیں کہ بڑے ہو کر انہوں نے دین کی خدمت کرنی ہے۔اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ بڑے ہوکر انہیں دین کی خدمت کا احساس رہے گا۔کچھ عرصہ ہوا کالج کی ایک سٹوڈنٹ ہمارے گھر آئی اور اس نے مجھے ایک رقعہ دیا، جس میں لکھا تھا کہ میں دین کی خدمت کے لئے اپنی زندگی وقف کرنا چاہتی ہوں۔میں نے کہا، بی بی لڑکیاں زندگی 593