تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 594
خطبه جمعه فرموده 09 مارچ 1956ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد سوم وقف نہیں کر سکتیں۔کیونکہ واقف زندگی کو تبلیغ کے لئے گھر سے باہر رہنا پڑتا ہے بلکہ بعض دفعہ اسے ملک سے بھی باہر جانا پڑتا ہے اور لڑکیاں اکیلی باہر نہیں جاسکتیں۔ہاں اگر تم زندگی وقف کرنا چاہتی ہو تو کسی واقف زندگی نوجوان سے شادی کر لو۔وہ خاموش ہو کر چلی گئی۔میری بیوی کی ایک ہم جماعت کو یہ بات معلوم ہوئی تو وہ کہنے لگی، میں نے اس سے پہلے کی نیت کی ہوئی تھی کہ میں اپنی زندگی دین کے لئے وقف کروں گی لیکن اس نے پہل کرلی۔پھر اللہ تعالیٰ نے ایسے سامان کئے کہ اس کی شادی ایک غیر ملکی واقف زندگی نوجوان سے ہوگئی۔اب دیکھو، نیک نیتی کیسے اچھے پھل لاتی ہے؟ پھر ایک دن ایک اور لڑکی روتی ہوئی میرے پاس آئی اور اس نے کہا کہ میں کسی واقف زندگی نوجوان سے شادی کرنا چاہتی ہوں لیکن میرے والد اس میں روک بنتے ہیں اور وہ میری شادی واقف زندگی سے نہیں کرنا چاہتے۔میں حیران ہوا کہ اس کے اندر کس قسم کا اخلاص پایا جاتا ہے؟ میں نے مولوی ابوالعطاء صاحب کو کہا کہ وہ اس کے والد کو سمجھا ئیں۔آخر چنددنوں کے بعد وہ پھر آئی اور اس نے کہا کہ میرا والد ایک واقف زندگی سے میری شادی کرنے پر آمادہ ہو گیا ہے۔چنانچہ اس کی شادی ہوگئی۔شادی کے بعد وہ پھر ایک دن روتی ہوئی میرے پاس آئی اور کہنے لگی کہ میرا باپ کہتا ہے کہ اگر تو اپنے خاوند کے ساتھ ملک سے باہر گئی تو میں تمہاری شکل تک نہیں دیکھوں گا۔میں نے کہا، میں بیمار ہوں تمہارے رونے کی وجہ سے میرا دل گھبراتا ہے، اس لئے تم ہو خود ہی کچھ کرو اور اپنے والد کو کسی نہ کسی طرح راضی کر لو۔بعد میں ، میں نے پھر مولوی ابوالعطاء صاحب سے کہا اور انہوں نے کوشش کر کے سمجھوتہ کرا دیا۔اب دیکھو وقف زندگی ایک جہاد ہے اور جہاد کا عورتوں کو حکم نہیں۔واقف زندگی نو جوانوں کو بیرون ممالک جانا پڑتا ہے اور لڑکیاں اکیلی باہر نہیں جاسکتیں، اس لئے اس قسم کی قربانی کا انہیں براہ راست حکم نہیں۔لیکن جب لڑکیوں میں دین کی خدمت کا جوش پیدا ہو جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ ان کے لئے ایسے سامان پیدا کر دیتا ہے کہ ان کی خواہش پوری ہو جاتی ہے۔پس ضروری ہے کہ ماں باپ بچپن سے ہی اپنی اولاد کے کانوں میں یہ بات ڈالنی شروع کر دیں کہ انہوں نے بڑے ہو کر دین کی خدمت کرنی ہے۔اور پھر اگر اپنے بچوں کو وقف کرنے کا عہد کریں تو ان لوگوں کی طرح نہ بنیں، جو شروع شروع میں تو کہتے ہیں کہ ہم نے سب بچے دین کی خدمت کے لئے وقف کر دیئے ہیں لیکن جب عملی طور پر وقف کا سوال پیدا ہوتا ہے تو یوں معلوم ہوتا ہے کہ بھی انہوں نے وقف کا نام ہی نہیں لیا تھا۔پھر ایک دوست نے لکھا ہے کہ جماعت کے احباب کو توجہ دلائی جائے کہ وہ واقفین زندگی کی قدر کیا کریں۔اور یہ سمجھیں کہ دین کا خادم ہونا ، نہایت اعلیٰ اور قابل قدر مقام ہے اور اس کی جتنی بھی 594