تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 591
تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد سوم خطبہ جمعہ فرمودہ 09 مارچ1956ء چوری کے دوران لڑائی ہوگئی اور مجھ سے ایک شخص قتل ہو گیا ، جس کی پاداش میں آج مجھے پھانسی پر لٹکایا جارہا ہے۔اگر میری والدہ شروع میں ہی مجھے چوری سے باز رکھتی اور میری چوریوں پر پردہ نہ ڈالتی تو مجھے بڑی چوریوں کے لئے دلیری نہ ہوتی اور مجھے یہ دن دیکھنا نصیب نہ ہوتا۔پس حقیقت یہی ہے کہ کہ ماں باپ کی تربیت بچوں پر بڑا گہرا اثر ڈالتی ہے۔جن بچوں کے والدین بچپن سے ہی ان کے کانوں میں یہ بات ڈالتے رہتے ہیں کہ انہوں نے بڑے ہو کر دین کی خدمت کرنی ہے، وہ دینی ماحول سے الگ ہو کر بھی اس بات کو بھلاتے نہیں بلکہ اسے ہمیشہ یادر کھتے ہیں۔چند دن ہوئے، شیخو پورہ کے ایک افسر نے جنہوں نے بی سی جی کا کورس مکمل کیا ہوا ہے، مجھے خط لکھا کہ میں دین کے لئے اپنی زندگی وقف کرنا چاہتا ہوں۔میں نے کہا، بہت اچھا ہم غور کریں گے کہ آپ کی خدمات سے سلسلہ کس رنگ میں فائدہ اٹھا سکتا ہے؟ لیکن آپ یہ بتائیں کہ آپ کا کس خاندان سے تعلق ہے؟ انہوں نے کہا، آپ نے صوفی عبد الخالق صاحب جالندھر والوں کا نام سنا ہو گا۔میں نے کہا، میں خوب جانتا ہوں ، وہ جالندھر کے مشہور پیر تھے اور ان کی ایک بیٹی قادیان آیا کرتی تھی۔انہوں نے کہا، وہ میری والدہ ہی تھیں۔میرے نانا تو احمدیت کے سخت مخالف تھے لیکن میری والدہ نے آخری عمر میں احمدیت قبول کر لی تھی اور فوت ہونے کے بعد وہ بہشتی مقبرہ قادیان میں دفن ہوئی ہیں۔پھر انہوں نے لکھا، مجھے زندگی وقف کرنے کی تحریک اس لئے ہوئی ہے کہ جب میں پیدا ہوا تھا، اسی وقت سے میری والدہ نے میرے کانوں میں یہ بات ڈالنی شروع کی تھی کہ میں نے تمہاری زندگی خدمت دین کے لئے وقف کرنی ہے۔میں چار، پانچ سال کا ہی تھا کہ وہ فوت ہو گئیں لیکن ان کی وہ بات میرے دل میں ایسی گڑی ہے کہ اب جبکہ میں بڑا ہو گیا ہوں، میں نے اعلیٰ تعلیم حاصل کرلی ہے اور بی سی جی کا ڈپلومہ بھی حاصل کر لیا ہے، میرے دل میں ہمیشہ یہ خلش رہتی ہے کہ میری والدہ نے تو یہ خواہش کی تھی کہ میں دین کی خدمت کے لئے اپنی زندگی وقف کروں لیکن میں دنیا کے کاموں میں مشغول ہوں۔انہوں نے بیان کیا کہ میں نے اس بات کا ذکر اپنے والد سے بھی کیا تھا۔انہوں نے بھی کہا تھا کہ جب تمہاری والدہ کی یہ خواہش تھی کہ تم دین کی خدمت کے لئے اپنی زندگی وقف کرو تو تم زندگی وقف کر دو۔اب دیکھو ماں فوت ہوگئی ، اس کا بیٹا دوسرے ماحول میں چلا گیا ، اس نے اعلیٰ تعلیم حاصل کی ، بی سی جی کا ڈپلومہ حاصل کیا اور اب اسے ایک اچھی ملازمت ملی ہوئی ہے۔لیکن پھر بھی اس کے دل میں یہ جلن رہتی ہے کہ میری ماں کہتی تھی کہ میں نے تمہیں دین کی خدمت کے لئے وقف کرنا ہے لیکن میں دنیا 591