تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 579
تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد سوم اقتباس از خطبه جمعه فرمودہ 10 فروری 1956ء کوئی دینی جماعت بغیر علماء کے نہیں چل سکتی کیونکہ وہ ان کی فوج ہیں وو خطبہ جمعہ فرمودہ 10 فروری 1956ء میں جماعت کے دوستوں کو اس امر کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ جس طرح کوئی دنیوی حکومت بغیر فوج کے نہیں چل سکتی، اسی طرح کوئی دینی جماعت بغیر علماء کے نہیں چل سکتی۔دیکھو، دنیا کی اکثر حکومتیں فوج کی جبری بھرتی کی قائل ہیں۔اور وہ یہی کہتی ہیں کہ اگر قوم کے نوجوان یہ کہیں کہ فوج میں چونکہ زیادہ تنخواہ نہیں ملتی ، اس لئے ہم فوج میں نہیں جاتے تو ملک کیسے بچ سکتا ہے؟ ملک صرف اسی طرح بیچ سکتا ہے کہ اگر نو جوان والنٹیئر کے طور پر فوج میں شامل نہ ہوں تو انہیں جبری طور پر اس میں بھرتی کر لیا جائے۔اس اصول کے مطابق اکثر دنیوی حکومتوں نے ضرورت کے وقت جبری بھرتی کا قانون تسلیم کیا ہے۔دینی جماعتوں کی فوج ان کے علماء ہیں۔اگر کسی دینی جماعت کے علماء شوق سے دین کی خدمت کے لئے آگے نہیں آتے اور اگر وہ شوق سے دین کی خاطر اپنی زندگیاں وقف نہیں کرتے تو اس جماعت کا حق ہے کہ وہ اپنے افراد سے کہے کہ اگر تم اس جماعت میں رہنا چاہتے ہو تو تمہیں لازماً اپنی زندگی وقف کرنی پڑے گی۔اور اس بات کو کوئی شخص ظلم نہیں کہہ سکتا۔دنیا میں ہر ملک کی حکومت ضرورت کے وقت جبری بھرتی کرتی ہے۔امریکہ میں بھی جبری بھرتی ہو رہی ہے، فرانس میں بھی جبری بھرتی ہو رہی ہے، جرمنی میں بھی جبری بھرتی ہو رہی ہے، روس اور دوسرے اکثر ممالک میں بھی جبری بھرتی ہورہی ہے۔انگلستان میں پہلے جبری بھرتی کا قانون نہیں تھا لیکن اب اس میں بھی جبری بھرتی درست تسلیم کی جاتی ہے۔کیونکہ وہ کہتے ہیں ، ملک کے بچاؤ کے لئے فوج کا ہونا ضروری ہے۔اگر ملک کے نوجوان اس وجہ سے کہ فوج میں تنخواہیں کم ہیں، فوج کی ملازمت کے لئے آگے نہیں آتے تو ملک کی حفاظت کیسے ہوگی؟ اور حکومت کے پاس اس کے بغیر اور کیا چارہ ہے کہ وہ انہیں جبری طور پر فوج میں بھرتی کرے اور جو شخص فوج میں بھرتی ہونے سے انکار کرے، اسے جیل خانہ میں ڈال دے؟ ہماری جماعت کو بھی فوج کی ضرورت ہے اور وہ فوج علماء اور مبلغین ہیں۔اگر ہماری جماعت کے نو جوان دینی علوم کے حصول کے لئے اور پھر اس کے بعد دینی خدمت کے لئے آگے نہیں آتے تو مجبوراً 579