تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 571
تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد سوم اقتباس از خطبه جمعه فرموده 28اکتوبر 1955ء وعدے لکھوانا شروع کر دیں۔میرا یہ خطبہ الفضل میں شائع ہو چکا ہے لیکن اس لئے کہ دوستوں کو غلط نہیں نہ ہو، میں اس امر کی وضاحت کر دینا ضروری سمجھتا ہوں کہ میں نے یہ تحریک نہیں کی کہ اس سال ہر شخص لازما ڈیوڑھا چندہ ادا کرے۔جو شخص ایک روپیہ بھی ادا نہیں کر سکتا، میں اسے ڈیڑھ روپیہ دینے کی تحریک کیسے کر سکتا ہوں؟ میں جو کچھ کہتا ہوں، وہ یہ ہے کہ اگر کسی شخص نے پچھلے سال مثلاً ایک سور و پیہ چندہ دیا تھا لیکن وہ اس سال 80 روپے دے سکتا ہے تو وہ بے شک 80 روپے ہی ادا کرے، ہم اس پر ایسا بوجھ نہیں ڈالنا چاہتے ، جس کو وہ برداشت نہ کر سکے۔لیکن اس کا کوئی نہ کوئی دوست تو ہوگا، کوئی نہ کوئی رشتہ دار یا ملنے جلنے والا تو ہوگا اور اگر وہ مومن ہے تو اس کا اپنے دوست یا رشتہ دار پر ضرور نیک اثر بھی ہوگا ، وہ اس دوست یا رشتہ دار کو تحریک جدید میں شامل کرے۔اگر وہ خود سوروپیہ کی بجائے 80 روپے ادا کرتا ہے تو 70 روپیہ کا وعدہ اس سے لکھوا دے۔اس طرح یہ رقم خود بخود ڈیوڑھی ہو جائے گی۔اگر ساری جماعت اس طرح کرے تو چندہ تحریک پچھلے سال کی نسبت یقین ڈیوڑھا ہو سکتا ہے۔اور اگر جماعت کی تعداد دگنی ہو جائے تو چندہ تحریک جدید پچھلے سال کی نسبت تکنا ہو جائے گا۔بہر حال جماعت کے دوستوں کو کوشش کرنی چاہئے کہ وہ اس تحریک میں پہلے سے زیادہ حصہ لیں۔وو جیسا کہ میں بتا چکا ہوں تبلیغ بھی اسی وقت مؤثر ہوگی ، جب تم دعاؤں سے کام لو گے اور اپنے اندر ایک نیک اور پاک تبدیلی پیدا کرو گے۔پس اپنے اندر تغیر پیدا کر و اور مالی اور جانی قربانی کی عادت ڈالو۔کئی لوگ اس خیال میں مبتلا ہوتے ہیں کہ ہم دنیوی ملازمتیں کریں گے تو آمد زیادہ ہوگی اور اس طرح ہم چندہ بھی زیادہ مقدار میں دے سکیں گے۔جن لوگوں کا یہ خیال ہوتا ہے، اللہ تعالیٰ کی طرف سے انہیں دین کی خدمت کی توفیق ہی نہیں ملتی۔احمدیت کے ایک فدائی خاندان کا ایک نوجوان واقف زندگی تھا، اس نے یہ کہہ کر چھٹی لی کہ وہ باہر جا کر اعلی تعلیم حاصل کرنا چاہتا ہے، اس کے بعد وہ پھر دین کی خدمت کے لئے آگے آجائے گا۔میں جانتا تھا کہ یہ شخص وقف سے بھاگ رہا ہے۔لیکن جھوٹے کو گھر تک پہنچانے کے لئے میں نے اسے رخصت دے دی۔جب میں انگلستان گیا تو مجھے معلوم ہوا کہ دنیا کمانے کے سوا اس کی اور کوئی غرض ہی نہیں۔انگلستان کے مبلغ نے مجھ سے شکایت کی کہ وہ چندہ ادا نہیں کرتا۔جب میں نے اسے ملامت کی تو اس نے کہا، پچھلی غلطی معاف کر دیں، آئندہ کے لئے میں با قاعدہ چندہ ادا کروں گا۔اور بقایا کی ادائیگی کے لئے اس نے فوراً ایک چیک لکھ کر دے دیا۔اب ہمارے مبلغ کا خط آیا ہے کہ جب ہم بنک کے پاس وہ چیک لے کر گئے تو معلوم ہوا کہ وہ اپنا سارا روپیہ نکلوا کر خرچ کر چکا ہے۔571