تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 559 of 802

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 559

تحریک جدید - ایک الہبی تحریک جلد سوم خطبه جمعه فرموده 21 اکتوبر 1955ء اسے دوبارہ دنیا میں قائم نہ کرلوں ، سانس نہیں لوں گا۔اب دیکھو، خدا تعالیٰ نے مجھ سے کتنا بڑا کام لیا ہے۔اگر یہ تحریک دنیا میں جاری رہے اور ایسے مومن پیدا ہوتے رہیں، جو ہر خطرہ اور ہر مصیبت کے وقت کہیں کہ اے خدا ! اس زلزلہ اور مصیبت کی وجہ سے خواہ ساری جماعت مرتد ہو جائے ، میں تیرے دین کے لئے اپنی جان پیش کروں گا اور اس وقت تک سانس نہیں لوں گا ، جب تک کہ اسلام کو پھر دوبارہ دنیا میں قائم نہ کر لوں تو اسلام کی اشاعت بہت جلد ہو سکتی ہے۔یہ ایک اخلاص سے نکلا ہوا فقرہ تھا، جو مجھ جیسے انسان کے منہ سے نکلا۔جس کے پاس دنیا کی کوئی ڈگری نہ تھی۔لیکن یہ فقرہ کتنا برکت والا تھا کہ خدا تعالیٰ نے اسے لفظ بلفظ پورا کر دیا۔اور اب غیر ممالک میں جو اسلام کا نام لیا جاتا ہے، وہ صرف میری وجہ سے ہی لیا جاتا ہے۔لیکن یہ میرا خاصہ نہیں، میں سمجھتا ہوں کہ تم میں سے ہر شخص چاہے وہ کتنا کمزور ہو ، وہی کام کر سکتا ہے، جو خدا تعالیٰ نے مجھ سے لیا۔بلکہ وہ اس سے بھی زیادہ کام کر سکتا ہے۔ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ یہ جوش دائماً قائم رکھا جائے۔جیسے میں بار بار تم سے کہتا ہوں کہ اسلام کی خدمت کے لئے اپنی زندگیاں پیش کرو، تم بھی یہ بات دوسروں سے کہتے چلے جاؤ۔اور رات کو علیحدگی میں اللہ تعالیٰ سے یہ اقرار کرو کہ اے خدا! اسلام پر ایک نازک وقت آیا ہوا ہے اور مصیبت کا دورا بھی ختم نہیں ہوا۔اے خدا! ہم تیری ہی قسم کھا کر کہتے ہیں کہ چاہے کچھ ہو جائے، ہم تیرا نام بلند رکھیں گے اور اسلام کی اشاعت سے کبھی غافل نہیں ہوں گے۔پھر تم دیکھو گے کہ خدا تعالیٰ کی برکتیں تم پر کس طرح نازل ہوتی ہیں؟ میرے زمانہ میں جماعت میں اختلاف بھی ہوا اور مختلف اوقات میں جماعت میں عہدے تقسیم کرنے کے مواقع بھی آئے۔لیکن میں نے کبھی بھی جنبہ داری سے کام نہیں لیا۔اور میں نے کبھی اس بات کی پرواہ نہیں کی کہ میرے خاندان کو کوئی نقصان پہنچتا ہے یا فائدہ؟ بلکہ میں نے صرف ایک ہی چیز دیکھی کہ کسی نہ کسی طرح جماعت اکٹھی رہے۔یہی جذبہ تم اپنے اندر پیدا کرو اور دنیا پر نگاہ نہ رکھو۔بلکہ اللہ تعالیٰ جو کچھ دیتا ہے، وہ لے لو۔دیکھو، حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جب اسلام کی اشاعت کا کام شروع کیا تو اس بات کا خیال نہیں کیا کہ آپ کھا ئیں گے کہاں سے؟ اللہ تعالیٰ نے خود بخو دلوگوں کے دلوں میں تحریک کی کہ وہ جائیں اور آپ کی خدمت میں نذرانے پیش کریں۔اس کی خبر اللہ تعالیٰ نے آپ کو الہاتا بھی دے دی تھی۔چنانچہ اس نے فرمایا کہ ینصرک رجال نوحى اليهم من السماء (حقیقۃ الوحی صفحہ 77 روحانی خزائن جلد 22) 559