تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 44 of 802

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 44

اقتباس از خطبه جمعه فرموده 27 اگست 1948ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد سوم صرف یہ کہنے سے کہ ہمارا مذ ہب سچا ہے اور وہ جھوٹے ہیں، کیا بن جاتا ہے؟ سچاند ہب کیا کوئی جادو اور ٹو نہ ہے کہ اگر اس کا نام لے لیا تو اللہ تعالیٰ ہمیں آسمان پر جگہ دے دے گا۔بچے کی کوئی علامت ہوئی چاہئے۔پھر عیسائیت کے مقابلہ میں ہم اگر لاکھوں مبلغ بھی دیں تو وہ کون ہوں گے؟ وہ ایسے ہوں گے، جن کی چھپیں سے پچاس تک ماہوار آمدن ہوگی، جو دال روٹی کھانے والے ہوں گے۔ان کو اگر ایک آدھ وقت کا فاقہ بھی آگیا تو آخر کون سا فرق پڑے گا؟ لیکن عیسائیت میں جن لوگوں نے اپنی زندگیاں وقف کی ہیں، انہیں ہر قسم کی دولت میسر تھی۔اگر مسلمان اپنی زندگیاں وقف کرتے ہیں تو گویا 50 روپے ماہوار خرچ کرتے ہیں۔لیکن اس کے مقابلہ میں عیسائی لوگ ہزار، دو ہزار تین ہزار روپیہ ماہوار خرچ کرتے ہیں۔ان میں طاقت تھی کہ وہ اتنی کمائی کر سکیں۔لیکن اس آمدن کو چھوڑ کر وہ چلے گئے۔ایسے ایسے ڈاکٹر ، جو سارے علاقے میں مشہور تھے، جو شہر میں پریکٹس کے ذریعہ چالیس چالیس، پچاس پچاس ہزار روپیہ ماہوار کما سکتے تھے، گرجے میں تنگی سے اپنی زندگیاں گزار رہے ہیں۔انہیں وہاں معمولی کھانے پینے کومل جاتا ہے۔دو، تین جوڑے کپڑے پہنے کومل جاتے ہیں اور پھر وہ اپنی ساری عمر گرجے میں لگا دیتے ہیں۔پنجاب میں ایک ڈاکٹر ٹیلر تھا۔وہ آنکھوں کے علاج میں سارے پنجاب میں مشہور تھا۔گزشتہ جنگ کے دنوں میں وہ چند دن سرکاری ہسپتال میں بھی لگا تھا۔میں نے خود اس سے علاج کروایا ہے۔ہزاروں ہزار مریض اس کے پاس آتے تھے اور ان میں سے ہر ایک کم از کم پندرہ روپیہ اسے دیتا تھا۔اور جو آپریشن کرواتے تھے، وہ تو سوسو، دو دو سو بھی دیتے تھے۔لیکن وہ اپنی ساری آمدن گرجے میں دے دیتا تھا اور کہتا تھا کہ میں تو پادری ہوں اور میں نے اپنی زندگی وقف کی ہوئی ہے۔پس اگر ہم تعداد میں بھی ان کے برابر ہوتے تب بھی ہماری قربانی ، ان کی قربانی کے برابر نہیں ہو سکتی تھی۔امریکہ کے بعض پروفیسر سوسو، ڈیڑھ ڈیڑھ سو میں کام کر رہے ہیں۔اگر انہیں گورنمنٹ منگوائی تو ہزار ہزار، ڈیڑھ ڈیڑھ ہزار ماہوار دیتی۔پس ان کے افراد کے مقابلہ میں بھی ہم نے کوئی قربانی نہیں کی اور لیاقت کے مقابلہ میں بھی ہم نے کوئی قربانی نہیں کی۔اور پھر یہ تو میں نے ہزاروں شاخوں میں سے ایک شاخ گنوائی ہے۔اب اگر ہم کہیں ليظهره على الدين كله کہ ہمارا مقصد یہ ہے کہ ہم نے اسلام کو دنیا کے باقی ادیان پر غالب کرنا ہے۔تو اس کے یہ معنی ہوں گے کہ کوئی ایسی جماعت پیدا ہو جائے ، جس کے افراد دوسرے مذاہب سے زیادہ دین کی خدمت کے لئے اپنے آپ کو پیش کریں۔وہ دوسرے مذاہب سے زیادہ لیاقت کی قربانی کریں۔اگر ہم ایسا نہیں کرتے تو اسلام دوسرے مذاہب پر غالب کیسے ہوگا ؟ 44