تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 551 of 802

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 551

تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔۔جلد سوم خطبه جمعه فرموده 14 اکتوبر 1955ء کی اشاعت کے لئے اپنی زندگی وقف نہیں کرے گا، وہ آپ کی نسل میں سے ہوتے ہوئے بھی روحانی طور پر آپ کی طرف منسوب نہیں ہو سکے گا۔اسی طرح میں یہ بھی نصیحت کرتا ہوں کہ تم ربوہ کو آباد کرنے کی کوشش کرو۔اس وقت ہمارے سامنے دو کام ہیں۔اگر ایک طرف ہم نے ربوہ کو آباد کرتا ہے تو دوسرے طرف ہم نے قادیان کو آباد کرنا ہے۔میں نے اپنے ایک لڑکے کو قادیان میں چھوڑا تھا اور اس نے بہت اخلاص بھی دکھایا۔جب دوسرے لوگ قادیان سے بھاگ آئے تو وہ وہیں رہا۔لیکن میں دیکھتا ہوں کہ اس میں ایسی ہمت نہیں کہ وہ فاقہ میں رہ کر بھی کام کرنے کے لئے تیار ہو۔اگر وہ فاقہ میں رہ کر کام کرنے کے لئے تیار ہوتا یا روزی کمانے کی کوئی صورت نکال لیتا تو میں سمجھتا کام چلتا چلا جائے گا۔لیکن مجھے یہ دونوں چیزیں نظر نہیں آتیں۔نہ مجھے یہ نظر آتا ہے کہ وہ فاقہ میں رہ سکتا ہے اور نہ وہ اپنی آمد پیدا کرنے کی کوئی کوشش کر رہا ہے۔اس کے معنی یہ ہیں کہ اگر کسی وقت بھی اسے اخراجات کے لئے روپیہ نہ ملے تو اس کا وہاں قیام مشکل ہو جائے گا۔حالانکہ ہم نے اسے حضرت اسماعیل علیہ السلام کی طرح وہاں اس لئے رکھا ہے تا کہ وہ قادیان کو آباد کرے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی پیش گوئیاں اس کے ذریعہ پوری ہوں۔ہم جور بوہ کو آباد کر رہے ہیں، ہمارا یہ کام مظلی ہے حقیقی کام اسی کا ہے، بشرطیکہ وہ سلسلہ کی خدمت کرتے ہوئے ہر مشکل برداشت کرنے کے لئے تیار ہو۔میں جماعت کو ایک یہ بھی نصیحت کرتا ہوں کہ پرانے زمانہ میں تنخواہ دار مبلغ نہیں ہوتے تھے بلکہ لوگ خود ان کی ضروریات کا فکر رکھتے تھے۔اس زمانہ میں ہمارے سب مبلغ تنخواہ دار ہیں۔لیکن صرف تنخواہ دار مبلغوں کے ذریعہ تبلیغ کو ساری دنیا میں وسیع نہیں کیا جاسکتا۔ساری دنیا میں تبلیغ اسی صورت میں ہو سکتی ہے، جب جماعت خودان کا خیال رکھے۔عیسائی اب تک اپنے پادریوں کی خدمت کرتے چلے آتے ہیں۔آپ لوگوں کا بھی فرض ہے کہ ان کی خدمت کریں۔میں سمجھتا ہوں اگر ہر کمانے والا احمدی ربوہ میں رہنے والے کارکنوں یا باہر کام کرنے والے مبلغوں کے لئے اپنی آمد کا ایک فی صدی بھی ریز رو کر دے تو ہر سو آدمی ، ربوہ میں بسنے والے، ایک کارکن یا با ہر کام کرنے والے ایک مبلغ کا گزارہ چلا سکتے ہیں۔اور پھر جوں جوں جماعت بڑھتی چلی جائے گی، بوجھ اٹھانے والے بھی زیادہ ہوتے جائیں گے اور اس طرح زیادہ کارکنوں کا بوجھ اٹھایا جا سکے گا۔اگر ایک لاکھ احمدی کمانے والے ہوں تو ایک ہزار مبلغوں اور کارکنوں کا گزارہ چلایا جاسکتا ہے۔پرانے زمانہ میں لوگ اسی طرح کرتے تھے اور وہ سمجھتے تھے ، ہم ان کی خدمت کریں گے تو خدا تعالیٰ ہماری آمد میں برکت پیدا کرے گا اور ہماری مشکلات کو دور کرے گا۔اگر جماعت 551