تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 43
تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد سوم اقتباس از خطبه جمعه فرمودہ 27 اگست 1948ء میں ہوشیار کر دینا چاہتا ہوں کہ خدائی بادشاہت کا وقت قریب آرہا ہے وو خطبہ جمعہ فرمودہ 27 اگست 1948ء خدا تعالیٰ نے ہماری جماعت کو ایک خاص مقصد کے لیے قائم کیا ہے۔اور وہ مقصد یہ ہے کہ ہم نے اسلام کو باقی تمام ادیان پر غالب کرنا ہے۔خدا تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے:۔هو الذي ارسل رسوله بالهدى ودين الحق ليظهره على الدين كله۔کہ ہم نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت ثانیہ اس لئے فرمائی ہے تا اسلام کو باقی تمام ادیان پر غالب کر دیا جائے۔گویا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بعثت کی غرض ہی یہ ہے کہ آپ نے اسلام کو باقی تمام ادیان پر غالب کرنا ہے۔یہ غلبہ ہزاروں ہزار اقسام کا ہے۔اس زمانہ میں کوئی بھی ایسی چیز نہیں ، جس میں اسلام غالب نظر آتا ہو۔دین کو لے لو، اگر چہ عیسائیت جھوٹی ہے اور اسلام ہی سچا مذہب ہے۔مگر پھر بھی عیسائیوں میں کئی لاکھ ایسے لوگ پائے جاتے ہیں، جو اپنے دین کی خاطر اپنی زندگیاں وقف کر دیتے ہیں۔عیسائیوں کا چھ لاکھ باقاعدہ مبلغ ہے۔وہ صرف پروٹسٹنٹ اور پریسٹرین چرچوں کا ہے، رومن کیتھولک ان کے علاوہ ہے۔سارے ملا کر قریبا ہیں، پچیس لاکھ پادری بن جاتے ہیں۔اب دیکھو انہیں صرف جھوٹا کہنے سے کیا بنے گا ؟ جھوٹے کے معنی تو یہ ہیں کہ بچے کے اندر اس سے زیادہ قربانی پائی جائے۔لیکن حال یہ ہے کہ جو جھوٹا ہے، وہ تو ایک انسان کی خدائی منوانے کے لئے لاکھوں مبلغ دیتا ہے لیکن سچا، خدا کی خدائی منوانے کے لیے سینکڑوں مبلغ بھی نہیں دیتا۔بلکہ حقیقت یہ ہے کہ ان میں ایسے پچاس آدمی بھی نہیں پائے جاتے۔اس کے مقابلہ میں عیسائیت کے پاس لاکھوں مبلغ ہیں، جو بڑے جوش کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔افریقہ کے ایک علاقہ میں ایک دفعہ عیسائیوں کے چھ، سات مشنری گئے۔وہاں کے مردم خور آدمیوں نے انہیں کھا لیا۔جب یورپ میں یہ خبر پہنچی تو تین ، چار دن میں کئی ہزار مردوں اور عورتوں نے اپنے نام پیش کر دیئے کہ ہم وہاں جانے کے لیے تیار ہیں۔مسلمان اول تو وہاں گئے ہی نہیں لیکن اگر چلے بھی جاتے اور مردم خور انسان انہیں کھا لیتے تو جب وہاں سے خبر آتی ، ہماری عورتیں کہتیں شکر ہے، ہمارا بچہ نہیں گیا تھا۔اس کے مقابلہ میں عیسائیوں میں کتنا جوش ہے۔43