تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 543 of 802

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 543

تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد سوم خطبه جمعه فرموده 14 اکتوبر 1955ء خاندانی طور پر اپنی زندگیاں دین کی خدمت کے لئے وقف کرو خطبہ جمعہ فرمودہ 14اکتوبر 1955ء سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جو کام ہمارے سپرد کیا ہے یا یوں کہو کہ جو کام خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذریعہ ہمارے سپرد کیا ہے، وہ اتنا بڑا ہے کہ اس کا تصور کر کے بھی دل کانپ جاتا ہے۔دنیا میں اس وقت دوارب غیر مسلم پائے جاتے ہیں اور ہمارے سپرد یہ کام ہے کہ ان دو ارب غیر مسلموں کو مسلمان بنادیں۔گزشتہ تیرہ سوسال میں صرف پچاس کروڑ مسلمان ہوئے ہیں۔گویا اس وقت چار غیر مسلم ایک مسلمان کے مقابل پر موجود ہیں۔اس کے معنی یہ ہیں کہ جو کام 1300 سال میں ہمارے آباء و اجداد نے کیا ہے، اس سے چار گنا کام کی ہم سے امید کی گئی ہے۔لیکن اس کے لئے وقت کا لحاظ رکھنا بھی ہمارے لئے ضروری ہے۔ورنہ غیر معین عرصہ میں تو بڑے بڑے مٹھن کام بھی ہو جاتے ہیں۔مثلاً دریاؤں کا پانی ہی جب ایک لمبے عرصہ تک پہاڑوں پر گرتا رہتا ہے تو اس کی وجہ سے بڑی بڑی غاریں بن جاتی ہیں۔اور جیالوجی والے کہتے ہیں کہ چونکہ دس دس ہیں ہمیں لاکھ سال بلکہ کروڑوں سال سے یہ پانی گرتا رہا ہے، اس لئے اب پہاڑوں میں بڑی بڑی غاریں بن گئی ہیں۔مگر انسانی زندگی اور انسانی سکیمیں اتنی لمبی نہیں چلیں۔یا کم از کم تاریخ ہمیں کسی اتنی لمبی زندگی یا اتنے لمبے عرصہ تک چلنے والی سکیم کا پتہ نہیں دیتی۔دنیا میں لمبی سے لمبی تاریخ ہمیں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دکھائی دیتی ہے۔جن کے زمانہ پر قریباً چار ہزار کا عرصہ گزر چکا ہے۔کیونکہ حضرت موسی علیہ السلام، حضرت عیسی علیہ السلام سے تیرہ سو سال قبل مبعوث ہوئے تھے۔اور حضرت ابراہیم علیہ السلام، حضرت موسیٰ علیہ السلام سے کوئی چھ ، سات سو سال قبل گزرے ہیں۔گویا دو ہزار سال تو یہ ہو گئے ، پھر حضرت مسیح علیہ السلام سے اب تک قریباً دو ہزار سال اور گزرچکے ہیں۔لیکن حضرت ابراہیم علیہ السلام کے زمانہ پر قریباً چار ہزار سال گزر جانے کے باوجود آپ کے ماننے والے اب تک دنیا میں موجود ہیں، جو آپ کے لائے ہوئے پیغام کو پھیلا رہے ہیں۔بے شک وہ دنیوی لوگوں کی نگاہ میں پاگل ہوں لیکن ہماری نظر میں وہ بڑے مستقل مزاج ہیں۔کیونکہ وہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے چار ہزار سال قبل کے لائے ہوئے پیغام کو اب بھی پھیلانے میں لگے ہوئے ہیں۔543