تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 537
تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد سوم اقتباس از خطبه جمعه فرموده 30 ستمبر 1955ء اس کے علاج کے لئے ہدایت فرمائی اور خود اسے تبلیغ کرتے رہے۔لیکن وہ اس قدر کثر عیسائی تھا کہ آپ جتنی تبلیغ کرتے وہ اتنا ہی عیسائیت پر پکا ہوتا۔ایک رات جبکہ اس کی حالت زیادہ خراب تھی ، وہ آدھی رات کو بھا گا اور بٹالہ کی طرف چل پڑا۔وہاں عیسائیوں کا مشن تھا۔اس کی ماں کو پتہ لگ گیا ، وہ رات کو گیارہ میل کے سفر پر چل پڑی اور قادیان سے 8،9 میل کا فاصلہ پر دوانیوال کے تکیہ کے پاس اسے جالیا۔مجھے یاد ہے، جب وہ قادیان واپس آئی تو وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے پاؤں پر روتی ہوئی گرگئی اور کہنے لگی، میں آپ کو خدا کا واسطہ دیتی ہوں کہ آپ ایک دفعہ اسے کلمہ پڑھادیں، پھر بے شک یہ مر جائے ، مجھے اس کی پرواہ نہیں۔لیکن میں یہ نہیں چاہتی کہ یہ عیسائی ہونے کی حالت میں مرے۔دیکھو، اس مراشن میں کتنا ایمان تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی روحانی اور جسمانی اولاد میں کم از کم اس میراثن جتنا ایمان تو ضرور ہونا چاہئے۔اس میراشن کا بیٹا عیسائی ہو گیا تھا، مگر وہ یہ نہیں چاہتی تھی کہ وہ عیسائی ہونے کی حالت میں مرے۔اس کی خواہش تھی کہ وہ ایک دفعہ کلمہ پڑھ لے، پھر بے شک مرجائے۔تم لوگ تو مسلمان گھروں میں پیدا ہوئے ہو تمہارے لئے تو اور بھی ضروری ہے کہ تم ایک دفعہ دوسروں کو کلمہ پڑھا لو، پھر بے شک مرجاؤ۔تم وقف در وقف کی تحریک کرتے چلے جاؤ۔اور پھر ہر واقف یہ سوچے کہ آگے اس کی اولاد میں خدمت دین کے لئے کتنا جوش ہے؟ وہ لوگ جنہوں نے اپنی زندگیاں وقف کی تھیں ، ان میں سے کئی ہیں، جن کی اولاد نے اپنی زندگیاں دین کی خدمت کے لئے وقف نہیں کیں۔صرف میری اولا د نے اپنی زندگیاں دین کی خدمت کے لئے وقف کی ہیں۔خدا کرے کہ ان کا دین کی خدمت کے لئے یہ جوش قائم رہے اور آگے ان کی اولا در اولاد اپنی زندگیاں دین کی خدمت کی لئے وقف کرتی چلی جائے۔اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی باقی اولاد کو بھی یہ سمجھ آجائے کہ پندرہ سویا دو ہزار روپیہ ماہوار کمانا کوئی چیز نہیں۔اصل چیز یہ ہے کہ انسان دین کی خدمت میں اپنی زندگی گزارے۔باقی میرے ساتھ وقف کرنے والوں میں سے ایک چوہدری فتح صاحب سیال تھے۔چوہدری صاحب کو خدا تعالیٰ نے توفیق دی کہ انہوں نے اپنے ایک لڑکے کو اعلیٰ تعلیم دلانے کے بعد دین کی خدمت کے لئے وقف کر دیا۔دوسرے درد صاحب تھے۔اگر ان کی اولاد میں سے کوئی لڑکا اچھا پڑھ جاتا تو وہ اسے دین کی خدمت کے لئے وقف کر دیتے۔مگر کچھ ایسا پردہ پڑا ہوا ہے کہ ابھی تک ان کی اولاد میں سے کوئی بھی اس قابل نہیں ہوا کہ وہ دین کے لئے اپنی زندگی وقف کر سکے۔باقی سب لوگوں کے خانے خالی ہیں۔حالانکہ اسلام دنیا میں اس وقت تک کبھی غالب نہیں آ سکتا، جب تک مسلسل اور متواتر ہم میں زندگیاں وقف کرنے والے لوگ پیدا نہ ہوں۔537