تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 538 of 802

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 538

اقتباس از خطبه جمعه فرموده 30 ستمبر 1955ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد سوم دیکھ لو، رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قریباً پانچ سو سال بعد ایک بزرگ حضرت خواجہ معین الدین صاحب چشتی ” ہوئے اور انہوں نے ہندوستان میں اسلام کی اشاعت کی۔ان کے بعد ان کے خلفاء ہوئے ، جنہوں نے ملک کے مختلف حصوں میں اسلام کی اشاعت کی۔مثلاً حضرت خواجہ فرید الدین صاحب نے سارے پنجاب میں اسلام پھیلایا۔پھر آپ کے کچھ شاگردوں نے جنوبی ہندوستان میں لاکھوں لوگوں کو اسلام میں داخل کیا۔جب آپ ہندوستان میں تشریف لائے تھے، اس وقت ہندوستان کی آبادی صرف ایک کروڑ تھی۔لیکن تمہارے مقابلہ میں اب اڑھائی ارب لوگ ہیں، جن کو تم نے ہدایت کی طرف لانا ہے۔اگر ہندوستان کے ایک کروڑ لوگوں کے لئے پانچویں، چھٹی صدی میں ایک معین الدین چشتی کی ضرورت تھی تو اب اڑھائی ارب لوگوں کے لئے دو سو سال تک بیسیوں معین الدین چشتی جیسے وجودوں کی ضرورت ہے۔اور یہ بیسیوں معین الدین چشتی پیدا کرنے مشکل نہیں۔بشرطیکہ تم اس کے لئے کوشش کرو اور تمہارا اپنا وقف ہی نہ ہو بلکہ تمہاری اولاد در اولاد میں وقف کا سلسلہ چلتا چلا جائے۔تم اس وقت اپنی غربت کی طرف نہ دیکھو تم خدا تعالیٰ کی طرف دیکھو اور یا درکھو، وہ وقت آنے والا ہے، جب یہی غریب دنیا کے بادشاہ ہوں گے اور وقف نہ کرنے والوں کی آئندہ نسلیں ان پر لعنتیں بھیجیں گی اور کہیں گی ، خدا تعالیٰ ان کے باپ دادوں کا بیڑا غرق کرے کہ انہوں نے اپنی اولاد کو وقف نہ کیا۔بلکہ وہ دعا کریں گے کہ خدا تعالیٰ ان کے باپ دادوں کو جہنم کے سب سے نچلے حصہ میں لے جائے کہ انہوں نے اپنی اولادکو دین کی خدمت میں نہ لگایا، بلکہ دنیا کمانے کی طرف لگا دیا۔تم میری آواز سے سمجھ سکتے ہو کہ مجھے جوش آ گیا ہے اور جوش میں آنا میرے لئے مضر ہے۔اس لئے میں انہی الفاظ پر اپنا خطبہ ختم کرتا ہوں اور دعا کرتا ہوں کہ خدا تعالیٰ ہماری جماعت میں خدمت دین کا جوش پیدا کرے۔اور ان کا جوش قیامت تک بڑھتا چلا جائے۔اور وہ اس وقت تک چین سے نہ بیٹھیں، جب تک کہ وہ موجودہ اڑھائی ارب لوگوں کو اور ان کے بعد آنے والے لوگوں کو مسلمان نہ کر لیں۔اور اس وقت تک سانس نہ لیں ، جب تک کہ دنیا کا ایک ایک آدمی کلمہ نہ پڑھ لے۔اور ایک ایک آدمی محمد رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر درود نہ بھیجنے لگ جائے“۔مطبوعه روزنامه الفضل 29 اکتوبر 1955 ء ) 538