تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 536 of 802

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 536

اقتباس از خطبه جمعه فرموده 30 ستمبر 1955ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد سوم ہزار سال تک اپنی اولاد در اولاد کو دین کی خدمت کے لئے وقف کرتی چلی جاتی اور دنیا کمانے کی طرف کبھی توجہ نہ کرتی۔اگر باقی لوگوں کو لاکھ ، لاکھ روپیہ ماہوار بھی مل رہا ہوتا تو وہ اس کی طرف منہ نہ کرتے اور دین کی خدمت کرتے ہوئے، اگر انہیں پچاس روپیہ ماہوار بھی ملتا تو اسے خوشی سے قبول کر لیتے۔مگر یاد رکھو، یہ ضروری نہیں کہ جسمانی اولا دہی وفادار ہو۔بلکہ اکثر دیکھا گیا ہے کہ روحانی اولا دو فادار ثابت ہوتی ہے اور جسمانی اولاد بعض دفعہ بے وفائی کر جاتی ہے۔اس لئے اگر آپ لوگ دیکھیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جسمانی اولادغدار ثابت ہو رہی ہے تو آپ یہ نہ کہیں کہ آپ کی جسمانی اولا د جب اچھا نمونہ نہیں دکھارہی تو ہم کیوں دکھائیں؟ یاد رکھیں ، آپ بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی اولاد ہی ہیں۔وہ جسمانی اولاد ہیں اور آپ روحانی اولاد ہیں۔اگر آپ لوگ انہیں دین سے لا پرواہی کرتا دیکھیں تو بائیں طرف تھوک کر اور یہ سمجھ کر کہ وہ شیطان کے قبضہ میں آگئے ہیں، دین کی خدمت میں مشغول ہو جائیں۔ساری دنیا ابھی اسلام سے بیگانہ ہے اور اڑھائی ارب کی آبادی کو ہم نے اسلام کی طرف لانا ہے۔پس اڑھائی ارب کی آبادی کو اسلام کی طرف لانے کی تیاری کریں اور شروع دن سے ہی اپنا یہ مقصد بنالیں اور اپنی اولا د کو بھی تاکید کریں کہ ان کا کام ساری دنیا کو کلمہ پڑھانا ہے۔جب تم لوگ ساری دنیا کو کلمہ پڑھا لو گے تو تمہاری دنیا اور عاقبت دونوں سنور جائیں گی۔ایک پاگل سے پاگل انسان بھی سمجھ سکتا ہے ہے کہ جب ساری دنیا کلمہ پڑھ لے گی تو انگریز کی دنیا کی ساری قو میں تمہاری غلامی کریں گی۔کیا تم سمجھتے ہو کہ اگر امریکہ کے سارے لوگ مسلمان ہو جائیں تو آج ہمارا جو مبلغ وہاں کے مزدورں سے بھی کم گزارہ لے کر کام کر رہا ہے، اسی حالت میں رہے گا ؟ اور کیا وہ لوگ اپنی دوستیں اس کی طرف نہیں پھینکیں گے؟ پس بے شک آپ لوگوں کو دنیا بھی ملے گی نیکن میں اس پر زور اس لئے نہیں دیتا کہ تا تمہارا نظر یہ دنیاوی نہ ہو جائے۔ورنہ یہ حقیقت ہے کہ آج جو دین کی خاطر اپنی زندگی وقف کرے گا اور دنیا کی پرواہ نہیں کرے گا، ایک وقت آئے گا کہ دنیا اس کے طرف دوڑتی ہوئی آئے گی۔لیکن اس وقت تم صرف دین کو سامنے رکھو اور ہزار، دو ہزار یا دس ہزار کے چکر میں نہ پڑو۔صرف اس بات کو اپنے سامنے رکھو کہ چاہے فاقے آئیں، ہم رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا کلمہ ساری دنیا کو پڑھا کر رہیں گے۔مجھے یاد ہے، حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے پاس ایک میراشن آئی ، اس کا لڑ کا عیسائی ہو گیا تھا اور وہ سل کا مریض بھی تھا۔اس نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے درخواست کی کہ میرا یہ اکلوتا لڑ کا عیسائی ہو گیا ہے اور ساتھ ہی سل کی بیماری میں مبتلا ہے۔آپ اسے تبلیغ بھی کریں تا یہ دوبارہ اسلام قبول کرلے اور علاج بھی کریں۔آپ نے حضرت خلیفة المسیح اول رضی الله عنه کو 536