تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 532
اقتباس از خطبه جمعه فرموده 23 ستمبر 1955ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد سوم چوہدری ظفر اللہ خان صاحب کو ہی دیکھ لو، وہ ایسی دھواں دار تقریر کرتے ہیں کہ ساری دنیا میں شور بچ جاتا ہے۔لیکن مذہبی معاملات پر انہوں نے جب بھی کوئی تقریر کرنی ہوتی تھی ، ہمیشہ میرے پاس آتے تھے اور کہا کرتے تھے کہ مجھے نوٹ لکھواد یجئے۔چنانچہ سالہا سال تک میں انہیں نوٹ لکھوا تارہا اور وہ میرے نوٹوں کو بڑھا کر تقریر کر دیا کرتے۔اب بھی گو میں بیمار تھا اور ڈاکٹروں کی ہدایت تھی کہ میں سیر و تفریح میں اپنا وقت گزاروں۔مگر چوہدری ظفر اللہ خان صاحب موٹر کی انگلی سیٹ پر بیٹھے، میری طرف منہ پھیر کر کہتے ، حضور! فلاں آیت کا کیا مطلب ہے؟ اور میں اس کا مفہوم بیان کرنا شروع کر دیتا۔میں سمجھتا کہ میرا بھی شغل ہو رہا ہے اور انہیں بھی فائدہ پہنچ رہا ہے، اس میں حرج کیا ہے؟ چنانچہ اکثر ایسا ہوتا کہ موٹر میں بیٹھے ہوئے سفر بھی ہورہا ہوتا اور وہ مجھ سے مختلف امور کے متعلق استفادہ بھی کر رہے ہوتے۔جس طرح چوہدری ظفر اللہ خان صاحب دین کی خدمت کر رہے ہیں، اسی طرح ہر شخص کر سکتا ہے۔صرف اتنی ضرورت ہوتی ہے کہ وہ عقل سے کام لے۔چوہدری ظفر اللہ خان صاحب صرف اس لئے ترقی کر گئے کہ انہیں دین کا شوق ہے اور وہ اسلامی مسائل کے متعلق سوچتے اور تدبر کرتے رہتے ہیں۔اور جن باتوں کا انہیں خود پتہ نہ لگے، وہ مجھ سے پوچھتے ہیں اور پھر اس کو بڑھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ساتھ ہی خدا نے انہیں ایسا ملکہ دیا ہے کہ وہ تقریر کرتے ہیں تو شور مچ جاتا ہے کہ بڑی اعلیٰ تقریر کی ہے۔جس طرح وہ کر رہے ہیں، اس طرح تم میں سے ہر شخص دین کی خدمت کر سکتا ہے، بشرطیکہ تم کرنا چاہو اور اپنے اپنے کاموں کے ساتھ دین کی خدمت کے لئے بھی کچھ وقت نکالو۔اور پھر آہستہ آہستہ اللہ تعالی توفیق دے تو اس وقف کو مستقل کیا جا سکتا ہے۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ تم میں سے کچھ لوگ ایسے ضرور ہونے چاہئیں، جو اپنے تمام کاموں سے الگ ہو کر خالص دینی خدمت میں مشغول رہیں۔مگر ہر آدمی ایسا نہیں کر سکتا۔ان کے لئے یہی طریق ہو سکتا ہے کہ وہ دنیا کا بھی کام کریں اور اس کے ساتھ دین کو بھی نظر انداز نہ کریں۔یاد رکھو، جب تک جماعت میں نسلاً بعد نسل ایسے لوگ پیدا نہ ہوتے رہیں گے، جو دین کی اشاعت کے لئے سینہ سپر ہو کر کھڑے ہو جائیں اور اسلام کا بوجھ اپنے کندھوں پر اٹھانے کے لئے تیار ہوں ، اس وقت تک اسلام کو غلبہ حاصل نہیں ہو سکتا۔میں چھوٹا تھا کہ میں نے بچپن کے چند دوستوں کے ساتھ مل کر ایک انجمن بنائی اور رسالہ تشحیذ الا ذہان ہم نے جاری کیا۔میرے اس وقت کے دوستوں میں سے ایک چوہدری فتح محمد صاحب ہیں۔جن کی لڑکی چوہدری عبداللہ خان صاحب کے گھر ہے۔ایک دفعہ چوہدری عبداللہ خان صاحب کی بیوی مجھے 532