تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 530
اقتباس از خطبه جمعه فرموده 23 ستمبر 1955ء تحریک جدید - ایک الہبی تحریک صرف دس روپے دے دیجئے۔میں نے کہا، دس روپے ؟ میرے پاس تو ایک پیسہ بھی نہیں۔کہنے لگے ، آپ فکر نہ کریں، بڑی بھاری جائیداد ہے اور میری تنخواہ اس میں سے بڑی آسانی کے ساتھ نکل آئے گی۔میں نے اسی وقت بغیر پڑھے رجسٹر ان کے حوالے کر دیئے اور کہا کہ اگر آپ دس روپے پیدا کر سکیں تو لے یجئے ، ورنہ میرے پاس تو ایک پیسہ بھی نہیں۔انہی دنوں قرآن کریم کے پہلے انگریزی پارہ کی اشاعت کا سوال پیدا ہوا۔اس پارہ کے لئے میں اردو میں مضمون لکھتا تھا اور ماسٹر عبدالحق صاحب مرحوم ، اس کا انگریزی میں ترجمہ کرتے جاتے تھے۔وہ اتنا اعلیٰ ترجمہ کرنے والے تھے کہ آج تک یورپ سے خطوط آتے رہتے ہیں کہ آپ کے پہلے پارہ کی زبان نہایت شاندار ہے۔اور پھر وہ اتنی جلدی ترجمہ کرتے تھے کہ میں پیچھے رہ جاتا تھا اور وہ مضمون کا ترجمہ کر کے لے آتے۔حالانکہ میں خود استاز ودنو لیس تھا کہ بعض دفعہ ایک، ایک دن میں پوری کتاب لکھ دیتا تھا۔ان دنوں مسجد مبارک کے نچلے کمرہ میں بیٹھ کر میں کام کیا کرتا تھا۔ایک دن میں بیٹھا مضمون لکھ رہا تھا کہ کسی نے دروازہ پر دستک دی۔میں نے پوچھا تو پتہ لگا کہ ماسٹر عبدالحق صاحب آئے ہیں۔میں نے کہا، آپ کس طرح آئے ہیں؟ کہنے لگے مضمون دیجئے ؟ میں نے کہا، ابھی تھوڑی دیر ہوئی ، میں آپ کو مضمون بھجوا چکا ہوں۔کہنے لگے، اس کا ترجمہ تو میں ختم بھی کر چکا ہوں، اب مجھے آگے مضمون دیجئے۔میں نے کہا، میرے پاس تو ابھی مضمون تیار نہیں۔کہنے لگے، خیر میں اپنا کام ختم کر چکا ہوں۔آپ مضمون لکھ لیں تو مجھے بھجوا دیں۔بہر حال جب مضمون تیار ہو گیا تو ہم نے فیصلہ کیا کہ یہ پارہ ہم اپنے خاندان کی طرف سے چھپوا دیں۔مگر اس کے لئے روپیہ کی ضرورت تھی۔ہمارا اندازہ یہ تھا کہ اس کے لئے چار ہزار روپیہ کی ضرورت ہوگی۔آخر سوچ سوچ کر میں نے یہ تجویز نکالی کہ ہم اپنی جائیداد کا کچھ حصہ بیچ دیتے ہیں۔اس ذریعہ سے جو آمد ہوگی ، وہ قرآن کریم کے چھپوانے پر خرچ کر دی جائے گی۔میں نے اپنے بھائیوں سے مشورہ لیا تو انہوں نے کہا کہ ہماری طرف سے زمین بیچنے کی اجازت ہے۔مگر اب میں ڈروں کہ چار ہزار روپیہ آ بھی سکتا ہے یا نہیں؟ میں نے اسی دوست کو بلوایا اور کہا کہ ہماری یہ خواہش ہے کہ قرآن کریم، ہمارے خاندان کے خرچ پر شائع ہو۔کیا اس کے لئے چار ہزار رو پید اکٹھا ہو سکتا ہے؟ کہنے لگے ، آپ کہیں تو ہیں ہزار بھی اکٹھا ہوسکتا ہے؟ میں نے کہا، ہمیں ہزار نہیں ، صرف چار ہزار روپیہ چاہئے۔جب میں نے یہ بات کہی ، اس وقت کوئی گیارہ بجے ہوں گے۔میں نے ان سے پوچھا کہ یہ روپیہ کب تک اکٹھا ہو سکتا ہے؟ کہنے لگے، ظہر تک لا دوں گا۔یہ کہہ کر وہ چلے گئے۔ظہر کی نماز پڑھا کر میں الفضل کے دفتر گیا تو انہوں نے چار ہزار 530