تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 524
اقتباس از خطبه جمعه فرموده 23 ستمبر 1955ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد سوم دیکھ لو، آپ کی کوئی جسمانی اولاد نہ تھی، جو آپ کے نام کو زندہ رکھتی۔مگر آج ساری دنیا کے عیسائی گواپنی جہالت اور نادانی کی وجہ سے انہیں خدائی کا رتبہ دیتے ہیں مگر وہ آپ پر اپنی جانیں قربان کرنے کے لئے تیار رہتے ہیں۔وہ کام خود اچھا کرتے ہیں مگر ہر اچھا کام کرنے کے بعد کہتے ہیں کہ یہ کرسچن سویلزیشن ہے۔چونکہ ان کی قوم میں رحم کا جذبہ زیادہ پایا جاتا ہے، اس لئے اگر وہ کسی موقع پر رحم سے کام لیتے ہیں تو ساتھ ہی کہہ دیتے ہیں، یہ کرسچین سویلیزیشن ہے، یہ میسج کی تعلیم کا نتیجہ ہے۔اگر مسیح کے اپنے بیٹے ہوتے تو کیا بن جاتا اور ان کا نام کتنے عرصہ تک باقی رہتا؟ لیکن چونکہ انہوں نے اپنی زندگی خدا تعالیٰ کے لئے وقف کر دی، اس لئے خدا تعالیٰ نے ان کو وہ عظمت دی کہ آج سارا یورپ اور سارا امریکہ ان کی عزت کر رہا ہے۔بلکہ یورپ کے ایک چھوٹے سے چھوٹے ملک کے عیسائی ، جس طرح حضرت مسیح کو یا در رکھتے ہیں، اگر ان کے اپنے بیٹے بھی موجود ہوتے تو اس طرح ان کو یاد نہیں رکھ سکتے تھے۔اسی طرح میں سمجھتا ہوں، ماسٹر محمد حسن صاحب آسان نے بھی ایسا نمونہ دکھایا، جو قابل تعریف ہے۔وہ ایک معمولی مدرس تھے اور غریب آدمی تھے۔انہوں نے فاقے کر کر کے اپنی اولاد کو پڑھایا اور اسے گریجوایٹ کرایا۔اور پھر سات لڑکوں میں سے چار کو سلسلہ کے سپر د کر دیا۔اب وہ چاروں خدمت دین کر رہے ہیں اور قریباً سارے ہی ایسے اخلاص سے خدمت کر رہے ہیں، جو وقف کا حق ہوتا ہے۔اگر یہ بچے وقف نہ ہوتے تو ساتوں مل کر شاید دس ہیں سال تک اپنے باپ کا نام روشن رکھتے اور کہتے کہ ہمارے ابا جان بڑے اچھے آدمی تھے۔مگر جب میرا یہ خطبہ چھپے گا تولا کھوں احمدی محمد حسن صاحب آسان کا نام لے کر ان کی تعریف کریں گے اور کہیں گے کہ دیکھو، یہ کیسا با ہمت احمدی تھا کہ اس نے غریب ہوتے ہوئے اپنے سات بچوں کو اعلی تعلیم دلائی اور پھر ان میں سے چار کو سلسلہ کے سپر د کر دیا۔اور پھر وہ بچے بھی ایسے نیک ثابت ہوئے کہ انہوں نے خوشی سے اپنے باپ کی قربانی کو قبول کیا اور اپنی طرف سے بھی ان کے فیصلہ پر صاد کر دیا۔میں نے پچھلے جمعہ میں جماعت کے دوستوں کو تحریک کی تھی کہ وہ اپنی زندگیاں اسلام کی خدمہ کے لئے وقف کریں۔اور میں نے بتایا تھا کہ اسلام کے غلبہ کی یہی صورت ہے کہ ہم میں نسلاً بعد نسل ایسے لوگ پیدا ہوتے رہیں، جو اسلام کی اشاعت کے لئے اپنے آپ کو وقف کریں۔میں نے یہ تحریک کی اور اس پر ایک ہفتہ گزر گیا۔لیکن میں دیکھتا ہوں کہ ابھی تک جماعت نے اس تحریک کی طرف پوری توجہ نہیں کی۔ایک زمانہ وہ ہوا کرتا تھا کہ نارمل حالت میں جب میں تقریر کرتا تھا تو میں سمجھتا تھا کہ میں سامعین کے دل ہلا سکتا ہوں اور اگر ابنارمل (Abnormal) اور غیر معمولی حالت پیدا ہو جاتی تھی اور خدا تعالیٰ کا نور 524