تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 508
اقتباس از خطبه جمعه فرموده 09 ستمبر 1955ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد سوم سپین کا مبلغ جب تبلیغی کا نفرنس میں شامل ہونے لندن آیا تو اس نے بتایا کہ پین سے آتے وقت جرمنی کے ایمبیسڈر (Ambassador) سے میں ملنے گیا تھا۔وہ جرمن بادشاہ ول ہلم (Wilhelm) کے خاندان میں سے ہے۔میں نے اسے بتایا کہ ہماری جماعت کے ہیڈ انگلستان آئے ہوئے ہیں اور وہاں ایک تبلیغی کا نفرنس منعقد ہورہی ہے، جس میں شمولیت کے لئے میں جارہا ہوں۔وہ کہنے لگا کہ میرا بھی ایک پیغام ان کے نام لیتے جاؤ۔میری طرف سے انہیں کہنا کہ جرمن لوگ اسلام قبول کرنے کے لئے بالکل تیار ہیں ، آپ جلدی کیوں نہیں کرتے ؟ وہاں اپنا تبلیغی مشن کھولیں۔ہمارا ملک اس وقت روحانی لحاظ سے پیاسا ہے۔مگر اسے کوئی رستہ نظر نہیں آتا۔آپ وہاں جائیں اور اپنی باتیں پہنچا ئیں۔ہمارا ملک آپ کی باتیں ماننے کے لئے تیار ہے۔غرض لوگوں کے اندر سچائی کو قبول کرنے کا مادہ پایا جاتا ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ دوست قربانی کریں اور اپنی ذمہ داری کو محسوس کریں۔جرمنی کے ایک شہر کی جماعت نے کہا کہ اگر ہمیں مبلغ مل جائے اور مسجد کے لئے زمین خرید کر دے دی جائے تو ہم امید کرتے ہیں کہ اگلے چھ ماہ میں کئی سواحدی مسلمان اس شہر میں پیدا ہو جائیں گے۔اور ایک، دو سال میں ہزار، دو ہزار ہو جائیں گے۔وہاں ایک احمدی عرب موجود تھا، انہوں نے کہا کہ فی الحال اس کو یہاں مقرر کر دیا جائے۔چنانچہ میں نے اس کو وہاں مقرر کر دیا۔پھر میں نے پوچھا کہ زمین کے لئے کتنی رقم کی ضرورت ہے؟ میں اپنے ملک پر قیاس کر کے سمجھتا تھا کہ وہ پچاس، ساٹھ ہزار روپیہ مانگیں گے۔مگر انہوں نے کہا کہ ہمیں صرف دو ہزار مارک دے دیں۔میں نے کہا کہ یہ دو ہزار مارک تو میں اپنی جیب سے بھی دے دوں گا تم اس کے متعلق تسلی رکھو۔مجھے صرف یہ بتا دو کہ عمارت کے لئے کتنا روپیہ لو گے؟ وہ فورا بول اٹھے عمارت کے لئے ہم آپ سے ایک پیسہ بھی نہیں لیں گے۔سارا کام ہم اپنے ہاتھ سے کریں گے۔آپ ہمیں صرف دو ہزار مارک دے دیں تا کہ ہم زمین خرید لیں۔اس کے بعد اس پر عمارت ہم خود بنائیں گے۔یہ چیز ایسی ہے، جو سارے جرمنی میں پائی جاتی ہے۔قاضی فیملی کے ایک نوجوان، جو قاضی محمد اسلم صاحب کے بھتیجے ہیں، وہاں تعلیم کے لئے گئے ہوئے ہیں۔میں نے ان کے پاس جرمن قوم کا ذکر کیا اور کہا کہ وہ بڑے محنتی ہیں۔وہ کہنے لگا، میں ابھی جرمنی سے آرہا ہوں۔وہاں میں جس مکان میں رہتا تھا، اس کی کھڑکی سے میں روزانہ یہ نظارہ دیکھتا تھا کہ سامنے ایک بلڈنگ گری پڑی ہے، وہ اسے بنانے کے لئے اکٹھے ہو جاتے اور دوسرے دن شام کو میں دیکھتا تو وہ چھتوں تک پہنچی ہوئی ہوتی۔اور یہ سارا کام محلے والے بغیر ایک پیسہ مزدوری لئے کرتے تھے۔508