تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 506 of 802

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 506

اقتباس از خطبه جمعه فرموده 09 ستمبر 1955ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد سوم ایک بڑی چیز کو چھوٹی چیز کے لئے قربان کر دینا ہے۔کہنے لگا، ہاں ، میرے دل میں یہی شبہ پیدا ہوا ہے۔میں نے کہا تو پھر اس کے معنی یہ ہیں کہ آپ تسلیم کرتے ہیں کہ چھوٹی چیز کو بڑی چیز کے لئے قربان کر دینا چاہئے۔اس اصول کر مد نظر رکھتے ہوئے ، اگر اس مخصوس واقعہ کودیکھا جائے تو اس میں اس شخص کا ایمان بچانا بڑا کام تھا اور بیوی کے منہ پر سے نقاب الٹ دینا چھوٹی بات تھی۔کہنے لگا، یہ کس طرح؟ میں نے کہا یہ تو تم جانتے ہو کہ پردہ کا حکم پہلی شریعتوں میں نہیں تھا اور تم یہ بھی جانتے ہو کہ پردہ کا حکم رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے آخری سالوں میں نازل ہوا ہے۔یعنی مدینہ میں ہجرت کرنے کے بعد پردہ کا حکم نازل ہوا ہے۔تیرہ سال تک رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم مکہ میں رہے اور پردہ کا حکم نازل نہ ہوا۔پھر مدینہ تشریف لائے تو وہاں بھی چار، پانچ سال تک پردہ کا حکم نہیں اترا۔تو گویا رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دعویٰ نبوت کے بعد جو تئیس سالہ زندگی گزری ہے، اس میں سے سترہ اٹھارہ سال تک آپ کسی بیویوں نے پردہ نہیں کیا۔اور جب پردہ کا حکم مدینہ آنے کے بھی چار، پانچ سال بعد نازل ہوا ہے تو تمہیں یہ ماننا پڑے گا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی ہر بیوی کو ہر صحابی نے دیکھا ہوا تھا۔اب بتاؤ کہ جس بیوی کو وہ سو دفعہ پہلے دیکھ چکا تھا، اگر ایک موقع پر اس کا ایمان بچانے کے لئے آپ نے اپنی اس بیوی کا نقاب اٹھادیا تو اس میں حرج کیا ہوا؟ وہ آپ کی بیویوں کو جوانی کی حالت میں دیکھ چکا تھا اور اب تو وہ بڑی عمر کی ہو چکی تھیں۔اس عمر میں اگر رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اپنی کسی بیوی کے منہ سے نقاب الٹ دیا تو چاہے وہ کتناہی کمزور ایمان والا شخص ہو، اس کے ایمان کو بچانے کے لئے آپ گا نقاب الٹ دینا بالکل بے حقیقت بات تھی۔کیونکہ اس بیوی کو اس نے جوانی کے دنوں میں بھی دیکھا ہوا تھا اور اب تو وہ بڑی عمر کی ہو چکی تھیں۔جوانی میں سو دفعہ دیکھنے والے شخص کے سامنے اگر آپ نے بڑھاپے میں اپنی ایک بیوی کے منہ سے اس کا ایمان بچانے کے لئے تھوڑی دیر کے لئے پردہ اٹھا دیا تو آپ نے بڑی چیز کو چھوٹی چیز پر قربان نہیں کیا بلکہ چھوٹی چیز کو بڑی چیز کے لئے قربان کیا۔اس جواب سے وہ خوش ہو گیا اور کہنے لگا کہ اب میری سمجھ میں یہ بات آگئی ہے۔غور کرو، یہ کتنا بڑا تغیر ہے کہ یا تو یہ کہا جاتا تھا کہ چونکہ اسلام پردہ کا حکم دیتا ہے، اس لئے جھوٹا ہے۔اور یا یہ کہا جاتا ہے کہ محمد رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے رات کے وقت ایک شخص کا ایمان بچانے کے لئے اپنی بیوی کے منہ سے ایک منٹ کے لئے بھی نقاب کیوں اتارا؟ اسی طرح ایک ڈچ عورت ، جو ایک مصری سے بیاہی ہوئی ہے، ہالینڈ میں مجھے ملی۔اس نے بتایا کہ جب پادری اعتراض کرتے ہیں کہ ایک سے زیادہ بیویاں کرنا سخت ظلم ہے تو میں انہیں کہا کرتی ہوں 506