تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 492
اقتباس از خطبہ جمعہ فرموده 18 فروری 1955ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد سوم اتنے سادہ عقل کے ہیں کہ ایک انسان کو خدامان رہے ہیں۔ایسے لوگوں نے ہمارے دماغوں کا کہاں مقابلہ کرنا ہے؟ ہمارے پاس خدا ہے، اس کا سچا رسول ہے، کچی کتاب ہے۔ہم نے خدا تعالیٰ کو مانا ہے اور وہ اس کا انکار کر رہے ہیں، اس لئے ان کی غلطی پر ہونے میں کیا شبہ ہوسکتا ہے اور ہمارے عقلمند ہونے میں کیا شبہ ہے؟ لیکن اگر ہم اپنی عقل اور دماغ کو استعمال نہیں کرتے تو یہ ہماری کمزوری ہے۔ورنہ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ہم دوسروں سے زیادہ اچھے ہیں، کوئی اور قوم ہم سے اچھی نہیں ہو سکتی۔تم اس وقت پہلی صف میں ہو ، بعد میں تم دوسری صف میں چلے جاؤ تو اور بات ہے۔کیونکہ ایسے زمانے بھی آتے ہیں کہ پچھلی صفیں آگے آجاتی ہیں۔تم نے دیکھا نہیں کہ بنو امیہ کی حکومت خالص عرب حکومت تھی۔پھر بغداد میں جو حکومت قائم ہوئی ، وہ عرب اور ایرانی ملی جلی تھی۔پھر بعد میں حکومت دوسری اقوام میں چلی گئی۔پس یہ نہیں ہوسکتا کہ پاکستان ہمیشہ کے لئے لیڈر بنار ہے۔لیکن اس وقت وہ بہر حال لیڈر ہے اور خدا تعالیٰ نے اسے لیڈر بنایا ہے۔خواہ کوئی چیں کرے یا پیں کرے، اسے اچھا لگے یا برا لگے ، بہر حال الہی فیصلہ نے اسے قابل ترین بنایا ہے۔اب اگر وہ اپنے آپ کو نا قابل ترین ثابت کرے تو یہ اس کی اپنی حماقت ہے۔پس اگر تم اپنے آپ کو نا قابل ظاہر کر رہے ہو تو ہم یہ تو ماننے کے لئے تیار نہیں کہ تم نا قابل ہو۔لیکن یہ واقعہ ماننے کے لیے تیار ہیں کہ تم نا قابل بن رہے ہو“۔مطبوعه روزنامه الفضل 22 فروری 1955ء) 492