تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 484 of 802

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 484

اقتباس از خطبه جمعه فرموده 04 فروری 1955ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد سوم جلسہ سالانہ کے موقع پرتحریک کی تھی کہ جماعت میں لائبریریاں قائم کی جائیں اور ان میں ہر طرح کا لٹر بیچر رکھا۔جائے۔پھر لٹریچر اس رنگ میں شائع کیا جائے کہ وہ زمانہ کی ضرورت کے مطابق ہو“۔وو پس میں علماء کو کہتا ہوں کہ وہ نئے طریق کلام کو جاری کریں اور سائنس، اقتصادیات اور سیاسی ترقی کے نتیجہ میں جو وساوس لوگوں کے دلوں میں پیدا ہو گئے ہیں، ان کو مد نظر رکھ کر لٹریچر تیار کریں اور پھر اسے شائع کرا کے لائبریریوں میں رکھوائیں۔اس طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بعثت کا مقصد پورا ہو سکتا ہے۔اگر ہم موجودہ وساوس کو دور نہ کریں اور اس زمانہ کے حالات کے لحاظ سے ان کا ازالہ نہ کریں تو ہمارا لٹریچر مفید نہیں ہوسکتا۔کیونکہ اب زبان بدل چکی ہے“۔وو 66 پس لوگوں کی زبانوں میں فرق ہے، لہجوں میں فرق ہے، طریق نصیحت میں فرق ہے، اخلاق میں فرق ہے اور ان سب باتوں کو مد نظر رکھتے ہوئے دوسروں کو سمجھانا پڑتا ہے۔جو شخص اس بات کو مد نظر نہیں رکھتا اور علم النفس کا ماہر نہیں ہوتا ، وہ صحیح مبلغ نہیں بن سکتا۔وو وو پس مبلغین اور دوسرے علماء کا کام ہے کہ وہ اس قسم کا لٹریچر تیار کریں ، جس کی اس زمانہ میں ضرورت ہے۔وہ اس طرز پر تصنیف نہ کریں، جس طرز پر پچھلے علماء تصنیف کرتے چلے آئے ہیں۔۔پس تم اس رنگ میں لڑ پچر تیار کرو۔پھر جب لٹریچر تیار ہو جائے تو جماعت کا فرض ہے کہ وہ اس لڑر پیر کو پھیلائے۔اگر جماعت لٹریچر کو پھیلائے گی نہیں تو تمام کوششیں بریکار رہ جائیں گی۔اسی لئے میں نے کہا ہے کہ جماعت ہر جگہ پر لائبریری قائم کرے۔چھوٹی چھوٹی جماعتیں بھی لائبریری قائم کرسکتی ہیں۔بلکہ ان پڑھ لوگ بھی کتابوں سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔قبولیت کا سوال الگ ہے۔خدا تعالیٰ نے انسان کو آزاد بنایا ہے، اسے مجبور کرنے کا ہمیں حق حاصل نہیں۔اگر سچائی سن لینے کے بعد کوئی ہمیں جھوٹا سمجھتا ہے تو یہ اس کا حق ہے۔وہ ایسا کر سکتا ہے۔لیکن حق کو جاننے کے بغیر کوئی ہمیں جھوٹا کہے تو اس کی غلط فہمی کا ازالہ کرنا ہمارے لئے ضروری ہے۔ورنہ ہم خدا تعالیٰ کے سامنے مجرم ہوں گے۔لیکن بات سمجھا دینے کے باوجود کوئی ہمیں جھوٹا کہے تو کوئی ہرج نہیں ، وہ ہمیں جھوٹا کہنے کے باوجود ہمارا بھائی ہے، وہ اپنے عقیدہ پرعمل کرتا ہے اور ہم اپنے عقائد کے مطابق چلتے ہیں۔( مطبوعه روزنامه الفضل 17 فروری 1955ء) 484