تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 468
خطاب فرموده 24 جنوری 1955ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد سوم احادیث اور فقہ کی کتابوں سے ثابت کرو۔جب اس قسم کی ایک روچل جائے گی تو وہ اپنا مذ ہب ترک کر کے اس رو کے پیچھے چل پڑیں گے۔اور جب وہ یہ سمجھ لیں گے کہ ان کے علماء اس مسئلہ میں صحیح راستہ پر نہیں تو وہ دوسرے مسائل میں بھی ان پر اعتبار کر نا ترک کر دیں گے۔یہ بات میں نے مثال کے طور پر بیان کی ہے۔ویسے تم اپنی اپنی جگہ جا کر ان لوگوں کی سٹڈی کرو اور جس بات کے متعلق تمہیں معلوم ہو کہ ان میں اس کے متعلق زیادہ احساس ہے، تم اسے لے لو۔اس طریق میں کامیابی کے لئے تین باتوں کا ہونا ضروری ہے۔اول یہ کہ کون سے مسئلہ میں قومی احساس زیادہ ہے؟ دوسرے یہ کہ ہم کس پہلو کو زیادہ آسانی سے ثابت کر سکتے ہیں؟ مثلاً ہو سکتا ہے کہ دو باتوں میں قومی احساس زیادہ ہو لیکن ایک بات کو ثابت کرنا مشکل ہو اور دوسری بات فطرت کو زیادہ اپیل کرتی ہو۔تیسرے جس مسئلہ کو تم اختیار کرو، اپنی جماعت کو مجبور کرو کہ وہ اس کی پابندی کرے۔چاہے اس کا دوسرا پہلو بھی جائز ہو۔میں نے ہاتھ باندھنے کی مثال اس لئے دی ہے کہ بعض مبلغین نے لکھا ہے کہ بعض اوقات لوگوں سے ہاتھ باندھنے پر بحث ہو جاتی ہے اور جب حوالے دکھا کر اپنا مسلک ثابت کیا جاتا ہے تو لوگ کہتے ہیں، ہمارے علماء تو غلط بات پیش کر رہے ہیں۔پس اس قسم کا کوئی مسئلہ لے کر تم اس قوم کے لئے چڑ بنادو۔اور پھر اسی مسئلہ پر بحث کرو اور ان پر ثابت کرو کہ تم جس طریق پر عمل کر رہے ہو، وہ درست نہیں۔اور جب یہ بات ان پر ثابت ہو جائے تو اس مثال کو پیش کر کے تم ان سے کہو کہ علماء نے اسی طرح دوسرے مسائل میں بھی تمہیں غلط باتیں بتائی ہیں۔تم جب کوئی مسئلہ لو گے، مخالف علماء اس پر زیادہ زور دیں گے اور اپنے طریق کو درست ثابت کرنے کی کوشش کریں گے۔اور جب اس پر کسی قوم میں زیادہ زور دیا جائے گا تو تمہارے لئے رستہ زیادہ آسان ہو جائے گا۔تم حوالے پیش کر کے قرآن اور حدیث اور سنت سے اپنے طریق کو ثابت کرو۔اور جب وہ بات ان لوگوں پر واضح ہو جائے گی تو وہ علماء کو خود بخود غلطی خوردہ خیال کرنے لگ جائیں گے۔تمہاری بات زیادہ توجہ سے سنیں گے۔پس تم افریقہ میں قوم وار چلو، گاؤں وار تبلیغ کرو اور قبائل اور جتھوں کو خطاب کرو۔پھر اگر کسی قوم میں سے کچھ لوگ تمہاری بات مان لیں اور بیعت کے لئے تیار ہو جا ئیں تو انہیں کہو تم اپنی قوم کے پاس 468