تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 467
تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد سوم خطاب فرمودہ 24 جنوری 1955ء مبلغین کو غیر ممالک میں اشاعت اسلام کے متعلق بعض اہم ہدایات خطاب فرمودہ 24 جنوری 1955ء پس میں ایک تو یہ کہنا چاہتا ہوں کہ تم ایسا طریق تبلیغ اختیار کرو کہ افریقہ میں لوگ قوم وار احمدیت میں داخل ہوں اور تم لوگوں سے خطاب بھی قوم وار کرو۔اب تو تمدن میں زیادہ ترقی ہو گئی ہے لیکن بہر حال ایک ایک گاؤں میں کئی کئی قو میں آباد ہوتی ہیں۔فرض کرو تم ایک گاؤں میں جاتے ہو اور وہاں ایک قوم آباد ہے اور اس کے علاوہ وہاں ب، ج اور 9 قو میں بھی آباد ہیں۔تمہیں معلوم ہوا ہے کہ ( والے احمدیت میں داخل ہونے کے لئے تیار ہیں۔تو تم ان سے دریافت کرو کہ تمہاری قوم کہاں کہاں آباد ہے؟ اور پھر جہاں جہاں ان کی قوم آباد ہو، وہاں انہیں بھیجو تا کہ وہ انہیں تبلیغ کریں اور احمدیت میں داخل کریں۔پھر تم ب ، ج ، 9 میں سے کسی قوم کی طرف توجہ کرو اور انہیں تبلیغ کرو۔اگر ان میں سے کچھ افراد تیار ہو جائیں تو انہیں اپنی اپنی قوم کے پاس بھیجو اور انہیں تاکید کرو کہ وہ اپنی قوم کو اپنے ساتھ لائیں۔ورنہ ان میں سے کسی کا ذاتی طور پر احمدیت میں داخل ہو جانا، زیادہ مفید نہیں ہوسکتا۔پھر ہمارے ہاں مسائل پر زیادہ بحث کی جاتی ہے لیکن ان کے ہاں مسائل کی بحث زیادہ نہیں۔کوئی ایک مسئلہ لے لو اور انہیں سمجھا دو تو وہ سب مسائل کو درست ماننے لگ جائیں گے۔یہاں تو پہلے وفات مسیح پر گھنٹوں بحث ہوتی ہے اور اس کے بعد نبوت پر بحث ہوتی ہے اور پھر صداقت مسیح موعود پر جھگڑا شروع ہو جاتا ہے، پھر کفر و اسلام کا مسئلہ آجاتا ہے، پھر حشر اجساد پر بحث شروع ہوتی ہے۔غرض جب تک ایک شخص ساری انسائیکلو پیڈیا نہ پڑھ لے، وہ اٹھتا نہیں۔اس کے مقابلہ میں پہلے مسلمانوں کو دیکھ لو، ان میں اس قدر مسائل کہاں تھے؟ ان کے پاس صرف لا اله الا اللہ تھا اور اس میں زیادہ بحث کرنے کی ضرورت ہی نہیں تھی۔پس تم ان اقوام کی سٹڈی کرو اور کوئی ایک بات ایسی لے لو، جس کے متعلق قومی احساس زیادہ ہو۔مثلاً اس طرف زیادہ تر مالکی آباد ہیں، مالکی نماز میں ہماری طرح ہاتھ باندھتے نہیں ، وہ ہاتھ چھوڑتے ہیں۔تم اس مسئلہ کو لے لو اور انہیں کہو کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں ہاتھ باندھتے تھے اور اس امر کو 467