تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 462 of 802

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 462

اقتباس از خطاب فرموده 27 دسمبر 1954ء تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔۔جلد سوم بنیں؟ اور تم مارے جاؤ تو تمہاری بیوی بچوں کا کیا قصور ہے، خواہ مخواہ ظلم بن جاتا ہے؟ اس نے کہا پھر کیا علاج ہے؟ کہنے لگا ، علاج یہی ہے کہ میں جاکے اپنے بیوی بچوں کو مار آتا ہوں اور تم جاکے اپنے بیوی اور بچوں کو مار آؤ۔پھر ہم آپس میں آکر لڑیں گے۔پھر تو ٹھیک ہوئی بات ، اب خواہ مخواہ اپنی اس لڑائی کے ساتھ دوسروں کو کیوں تکلیف دینی ہے؟ یہ بات بیچارے خان صاحب کی سمجھ میں آگئی۔انہوں نے کہا ٹھیک ہے۔چنانچہ وہ گئے اور اپنے بیوی بچوں کو مار کے آگے اور یہ وہیں بیٹھا ر ہا۔جس وقت وہ واپس پہنچا تو کہنے لگا، نکالوتلوار اس نے کہا، نہیں، میری رائے بدل گئی ہے اور یہ کہہ کر اس نے اپنی مونچھیں نیچی کر لیں۔تو کیا اب تم وہی کرنا چاہتے ہو؟ تم تھوڑے سے تھے، جب تم دنیا میں نکلے اور تم نے نکل کر دنیا سے یہ منوالیا کہ اگر اسلام کی عزت رکھنے والی کوئی قوم ہے تو صرف احمدی ہیں۔تم نے دنیا سے منوالیا کہ اگر عیسائیت کا جھنڈ از پر کرنے والی کوئی چیز ہے تو وہی دلیلیں ہیں، جو مرزا صاحب نے پیش کی ہیں۔جب عیسائیت کا پینے لگی ، جب وہ تھر تھرانے لگی، جب اس نے سمجھا کہ میراند ہی تخت مجھ سے چھینا جا رہاہے اور یہ تخت چھین کرمحمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیا جارہا ہے تو تم نے کہا ہم اپنی مونچھیں نیچی کرتے ہیں۔کیسی افسوس کی بات ہے۔یہی تو وقت ہے، تمہارے لئے قربانیوں کا۔یہی تو وقت ہے، تمہارے لئے آگے بڑھنے کا۔اب جبکہ میدان تمہارے ہاتھ میں آ رہا ہے تم میں سے کئی ہیں، جو پیچھے ہٹنا چاہتے ہیں۔لیکن یاد رکھو، اس قسم کی عزت کا موقع اور اس قسم کی برکت کا موقع اور اس قسم کی رحمت کا موقع اور اس قسم کے خدا تعالیٰ کے قرب کے موقعے ہمیشہ نہیں ملا کرتے سینکڑوں سال میں کبھی یہ موقعے آتے ہیں۔اور خوش قسمت ہوتی ہیں ، وہ قومیں ، جن کو وہ موقعے مل جائیں اور وہ اس میں برکتیں حاصل کر لیں۔نوجوانوں کو میں خصوصاً توجہ دلاتا ہوں کہ خدام کے ذریعہ سے تم نے بڑے بڑے اچھے کام کرنے شروع کئے ہیں۔خدمت خلق کا تم نے ایسا عمدہ لاہور میں مظاہرہ کیا ہے کہ اس کے اوپر غیر بھی عش عش کرتا ہے۔اور میں امید کرتا ہوں کہ تم روزانہ اپنی زندگیوں کو اس طرح سنوارتے چلے جاؤ گے کہ تمہارا خدمت خلق کا کام بڑھتا چلا جائے۔لیکن یہ کام سب سے مقدم ہے۔کیونکہ اسلام کی خدمت کے لئے تم کھڑے ہوئے ہو۔اور اسلام کی تبلیغ کا دنیا میں پھیلانا، یہ ناممکن کام اگر تم کر دو گے تو دیکھو آئندہ آنے والی نسلیں تمہاری اس خدمت کو دیکھ کر کس طرح تم پر اپنی جانیں نچھاور کریں گی۔کیا آج تم میں سے کوئی شخص خیال کر سکتا ہے، کیا آج ایشیا میں کوئی شخص خیال کر سکتا ہے، کیا آج افریقہ کا کوئی شخص خیال کر سکتا ہے، کیا 462