تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 34
تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد سوم اقتباس از خطبه جمعه فرموده 14 مئی 1948ء دوسرا جلسہ لاہور کی لجنہ کا ہوتا ہے۔ابھی کچھ دن ہوئے ، لاہور کی لجنہ کا جلسہ ہوا، جب تعداد معلوم کرنے کے لئے پوچھا گیا کہ لاہور کی عورتیں کھڑی ہو جائیں تو اس میں لاہور کی صرف 5 عورتیں تھیں اور دوسو قادیان کی عورتیں تھیں۔یہ لاہور کی لجنہ کا حال ہے۔لیکن قادیان والی عورتوں کے جلسہ میں شاذ و نادر ہی کوئی لاہور کی عورت آتی ہے۔پس یہ اعتراض بھی غلط ہے۔غرض تمام باتیں ، جو اس خاتون نے لکھی ہیں، غلط نہی پر بنی ہیں۔لیکن اگر میرے اس جواب سے بھی ان کو تسلی نہ ہو تو صحیح طریق یہ ہے کہ وہ خاتون اپنے خاوند کو ساتھ لے کر آجائیں۔ہم ٹرنک ان کے سامنے رکھ دیں گے، وہ دیکھ لیں کہ ہمارے گھر میں کتنے گوٹہ کناری والے کپڑے ہیں اور وہ کب سے بنے ہوئے ہیں؟ وہ کپڑوں کی قیمت کا بھی اندازہ لگالیں ، اگر ان کے بیان کردہ قیمت سے وہ کم قیمت کے ہوئے تو وہ اس کمی کو پورا کر دیں۔ہاتھ کنگن کو آرسی کیا۔جو چیز آسانی سے طے کی جا سکتی ہے، اس کے لئے کسی جھگڑے کی ضرورت ہی کیا ہے؟ اب بھی جمعہ کی نماز میں میری بیویاں آئی ہوئی ہیں اور وہ وہاں بیٹھی ہیں۔ان کا لباس وہ دیکھ لیں ، دو کو میں نے یہ خط بتایا ہی نہیں، دو کو میں نے بتایا ہے۔مگر وہ اسی لباس میں ہی آگئی ہیں۔خط سننے کے بعد انہوں نے لباس کو بدلا نہیں اور اس کی میں خود گواہی دیتا ہوں۔ان کے لباس کو دیکھ لیں کہ کیا یہ اعتراض درست ہے؟ باقی رہاسنگار کا سوال۔سوظاہر ہے کہ وہ سنگھار اسی رقم میں سے کر سکتی ہیں، جو میں ان کو دیتا ہوں اور وہ رقم میں بتا چکا ہوں۔ایک کے پاس جیسا کہ میں نے بتایا ہے،صفر بچتا ہے۔اور صفر سے جتنا سنگار کیا سکتا ہے، وہ ظاہر ہے۔باقی بیویوں کے پاس بھی زیادہ سے زیادہ پندرہ روپے بچتے ہیں۔اور آج کل گرانی کا جو حال ہے، وہ کسی سے پوشیدہ نہیں۔ان پندرہ روپوں میں جتنا کپڑا خریدا جاسکتا ہے یا جتنی جوتیاں خریدی جاسکتی ہیں، اس کے متعلق ہر شخص خود ہی اندازہ لگا سکتا ہے۔آج کل تو اتنے روپیہ میں جوتیاں بھی مشکل سے خریدی جاسکتی ہیں۔قیمتیں اتنی بڑھ گئی ہیں کہ حیرت آتی ہے۔دس پندرہ روپے میں ایک معمولی جوتی آتی ہے۔اگر دیسی جوتی کا بھی استعمال کیا جائے تو جو جوتی کبھی سوار و پے میں آتی تھی ، اب آٹھ آٹھ ، نونو روپے میں آتی ہیں۔پھر تیل اور صابن وغیرہ سب چیزیں نکال کر دیکھنا چاہیے کہ ان کے پاس کیا بچتا ہے اور اس میں سے کیا کچھ کیا جاسکتا ہے؟ باقی رہا ہنر ، سو اگر کوئی ہنر اور سلیقہ شعاری سے کام لیتا ہے تو اس پر اعتراض نہیں ہو سکتا بلکہ یہ قابل تعریف بات ہے۔ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو قربانی کے لئے ایک بکرے کی ضرورت تھی۔آپ 34