تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 454 of 802

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 454

اقتباس از خطاب فرموده 27 نومبر 1954ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد سوم سور و پیہ ہوتی ہے۔اور ہر سال انہیں ترقی ملتی ہے۔اگر ان میں سے آدھوں کی ترقی بھی فرض کر لی جائے ، کیونکہ کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں، جیسے فوجی ملازم ہیں، ان کی سالانہ ترقی نہیں ہوتی ، کچھ وقفے کے بعد ہوتی ہے۔بہر حال اگر ہزار آدمی بھی سمجھ لیا جائے تو بارہ، چودہ ، پندرہ یا بیس رو پیدان کی ترقی کی اوسط نکل آئے گی۔اگر پندرہ روپیہ بھی ترقی کی اوسط رکھی جائے تو پندرہ ہزار تو یہ آ جاتا ہے۔پچیس ہزار ہو گئے۔پھر میں نے یہ کہا تھا کہ ڈاکٹر اور وکیل ( بلکہ خود ڈاکٹروں اور وکیلوں کے مشورہ سے یہ فیصلہ کیا گیا تھا) اپنی سابق آمد کی تعیین کر کے ہر سال اس میں جو زیادتی ہو، اس زیادتی کا دسواں حصہ مسجد فنڈ میں دیا کریں۔اسی طرح بجٹ کے سال کے پہلے مہینہ یعنی ما مٹی کی آمد کا پانچ فی صدی ہر سال ادا کیا کریں۔یہ بھی کوئی ایسا بوجھ نہیں، جو لوگوں کے لئے مشکل ہو۔میرے نزدیک کئی ہزار کی رقم اس طرح نکل سکتی ہے۔اسی طرح ایک یہ تجویز تھی کہ جو چھوٹے تاجر ہیں، وہ ہر ہفتہ کے پہلے دن کے پہلے سودے کا منافع مسجد فنڈ میں دے دیا کریں اور جو بڑے تاجر ہیں، وہ ہر مہینہ کی پہلی تاریخ کے پہلے سودے کا منافع دے دیا کریں۔پھر زمینداروں کے متعلق یہ تھا کہ جو دس ایکڑ سے کم زمین کے مالک ہیں، وہ ایک آنہ فی ایکٹر کے حساب سے اور جو دس ایکڑ سے زیادہ زمین کے مالک ہیں، خواہ بارانی ہو یا نہری ، وہ دو آنے فی ایکڑ کے حساب سے دے دیا کریں۔یہ بھی کوئی ایسا چندہ نہیں ہے، جو کسی زمیندار پر دوبھر ہو۔مثلاً اگر دو آنے مقرر ہیں اور 125 ایکٹر یعنی ایک مربع اس کے پاس ہے تو مربع والے کے لئے تین روپے مسجد کے لئے چندہ دینا کوئی بڑی بات نہیں۔پھر پیشہ وروں کے لئے یہ قاعدہ تھا کہ وہ ہر مہینہ کی پہلی تاریخ کو یا مہینہ کا کوئی اور دن مقرر کر کے اس دن ، جو انہیں مزدوری مل جائے ، اس کا دسواں حصہ مسجد فنڈ میں دے دیا کریں۔بہر حال یہ سارے کے سارے ذرائع آمدن ایسے تھے، جو کسی پر بوجھ نہیں بنتے تھے اور آمدن اسی ہزار یا لاکھ کے قریب بنتی ہے۔لیکن ہوئی چودہ ہزار ہے۔اور اس چودہ ہزار میں سے دو، تین ہزار ایسے بھی نکلیں گے، جنہوں نے اپنے اخلاص میں اپنی طاقت سے بہت زیادہ دے دیا ہے۔اصل چندہ، جو قاعدہ کے مطابق دیکھا جائے گا، وہ دس گیارہ ہزار نکلے گا۔یعنی متوقع آمد کا دسواں حصہ۔گویا یہ چندہ ایسا ہے، جو جماعت میں سے 1/10 حصہ نے ادا کیا ہے،9/10 نے ادا نہیں کیا۔454