تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 453 of 802

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 453

یک جدید - ایک الہی تحریک جلد وو جلد سوم اقتباس از خطاب فرموده 27 نومبر 1954ء بیرونی ممالک میں تعمیر مساجد کی تحریک خطاب فرمودہ 27 دسمبر 1954 ء بر موقع جلسہ سالانہ میں نے عورتوں کے حصہ کی مسجد کے متعلق ابھی توجہ دلائی تھی کہ اس مسجد کے لئے اب تک رقم جمع نہیں ہوئی۔لیکن مردوں کے ذمہ جو مسجد لگائی گئی ہے یا بہت سی مساجد لگائی ہوئی ہیں، ان کی حالت اس سے بھی بدتر ہے۔عورتوں کی مسجد کے لئے زمین خریدی جا چکی ہے اور اس پر جو مسجد بنی ہے، اس کی بھی قریباً ایک تہائی رقم جمع ہے۔لیکن مرد بیچارے ایسے کم ہمت ثابت ہوئے ہیں کہ ان کی طرف سے ابھی زمین کی قیمت بھی ادا نہیں ہوئی۔حالانکہ میں نے اس کے لئے نہایت آسان راہیں بتائی تھیں۔لیکن تعجب ہے کہ ان پر عمل نہیں ہوا۔ان آسان راہوں کے متعلق ہمارا یہ اندازہ تھا کہ اسی ہزار سے ایک لاکھ روپیہ تک سالانہ جمع ہوسکتا ہے۔لیکن مجھے رپورٹ یہ کی گئی ہے کہ کل چودہ ہزار روپیہ سال میں چندہ آیا ہے۔میں نے بتایا تھا کہ جس کی مثلاً شادی ہو، وہ اس خوشی میں کچھ نہ کچھ رقم مسجد فنڈ میں بھی دے دیا کرے۔ہماری جماعت دو، تین لاکھ کی ہے۔اور ہزار، دو ہزار کی شادی ہوتی رہتی ہے۔پس وہ جو سو ، دو سو، پانچ سو، ہزار، دو ہزار، پانچ ہزار روپیہ شادی پر خرچ کرتا ہے، اگر پانچ ، دس ہیں، پچاس روپیہ تک مساجد کے لئے بھی اس وقت دے دے تو کون سی بات ہے۔فرض کرو اگر ہزار شادی ہو اور پانچ روپیہ اوسط لگالو۔کسی نے ایک روپیہ دیا، کسی نے دو دیئے، کسی نے نہیں یا پچاس بھی دیئے لیکن اوسط پانچ روپیہ رکھو تو پانچ ہزار تو شادیوں کا آجاتا ہے۔اسی طرح میں نے کہا تھا کہ جب بچے پیدا ہوتے ہیں تو تم تھوڑا بہت تو خرچ کرتے ہو۔اگر مسجد کے لئے کچھ دے دیا کرو تو یہ بھی خدا تعالیٰ کے حضور تمہاری اولاد کے لئے برکت کا موجب ہو جائے گا۔فرض کرو اگر ہمارے ہاں سال میں دو ہزار یا تین ہزار بچہ پیدا ہوتا ہے اور دوروپے اوسط آتی ہے تو پانچ ہزار یہ بھی ہو جاتا ہے۔گویا دس ہزار تو صرف شادیوں اور بچوں سے ہو جاتا ہے۔پھر میں نے کہا تھا، جس کسی شخص کی ترقی ہو ، وہ پہلے مہینہ کی ترقی دے دیا کرے۔ہماری جماعت میں خدا تعالیٰ کے فضل سے دو، تین ہزار ملازم ہیں۔اور ان کی اوسط تنخواہ میرے نزدیک تین ، چار 453