تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 452
اقتباس از خطاب فرمودہ 27 دسمبر 1954ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد سوم چندہ عورتیں دے رہی تھیں۔جب وہ ان سے ایک مقامی ہال کے لئے اتنی رقم جمع کر سکتی تھیں تو وہ مسجد ، جو کہ نسلوں تک عورتوں کا نام بلند کرنے اور ان کے ثواب کو زیادہ کرنے کا موجب ہو سکتی تھی ، اس کے چندہ کے جمع کرنے میں وہ کیوں کامیاب نہیں ہو سکتیں ؟ یقینا کام کرنے میں کوتاہی ہوئی ہے اور کم سے کم مجھ پر یہی اثر ہے۔بڑا ذریعہ ہمارے ہاں اشتہارات کا اور لوگوں کو توجہ دلانے کا اخبار الفضل“ ہوتا۔مگر میں نے تو " الفضل میں کبھی ایسی شکل میں اس کے متعلق کوئی اعلان نہیں پڑھا کہ جس سے مجھ پر یہ اثر ہوا ہو کہ صحیح کوشش کی جارہی ہے۔پس میں عورتوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ ابھی ان کے ذمہ اس ہزار روپیہ پورا کرنا ہے۔اور اب تو مسجد کے نقشے وغیرہ بن گئے ہیں اور کچھ مقدمہ بازی بھی شروع ہو گئی ہے۔کیونکہ آرکیٹیکٹ نے کہا ہے کہ تم نے کئی نقشہ بنوائے تھے ، سب کی قیمت دو۔اور ہمارے آدمی کہہ رہے ہیں کہ جو نقشے کام نہیں آئے ، ان کی قیمت کیوں دیں؟ اب اس نے نالش کر دی ہے اور اس نے وہاں کی عدالت کے سمن ربوہ میں بھجوائے ہیں۔حالانکہ اس سے معاہدہ تو مقامی امیر یا امام نے کیا تھا۔اس کی غرض یہ معلوم ہوتی ہے کہ نہ تحریک وہاں پہنچے گی اور نہ عدالت میں اپنا جواب دے گی اور یک طرفہ ڈگری ہو جائے گی۔اگر وہ مسجد جلدی سے بنی شروع ہو جائے تو پھر سوال حل ہو جاتا ہے۔دراصل وہاں قاعدہ یہ ہے کہ آرکیٹیکٹ کا نقشہ اگر رد کر دیا۔جائے تو اس کو اختیار ہوتا ہے کہ وہ اس زمین کو، جس پر مکان بنوایا جاتا ہے، نیلام کروا کے اپنی قیمت وصول کرلے۔اور یہی اس کی غرض ہے۔اگر اس پر مسجد کی بنیا د رکھی جاتی تو پھر کسی کو جرات نہیں ہو سکتی تھی کہ اس کے نیلام کا سوال اٹھائے۔کیونکہ وہ تو خدا کا گھر ہو گیا۔اور وہ بھی جانتے ہیں کہ اگر ہم نے ایسا کیا تو ساری دنیائے اسلام میں شور مچ جائے گا۔پس اس جگہ پر مسجد کی تعمیر کا جلد ہونا نہایت ضروری ہے۔تا کہ وہ جگہ محفوظ ہو جائے اور آئندہ کسی کو شرارت کرنے کا موقع نہ ملئے“۔( مطبوعه روزنامه الفضل 15 فروری 1955ء) 452