تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 445
تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔جلدسوم اقتباس از خطبه جمعه فرموده 17 دسمبر 1954ء اس وقت ایک بہت بڑا طوفان آیا ہوا ہے اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی روحانیت پر پر دے ڈال دیئے گئے ہیں۔اگر تمہارے سامنے وہ کتابیں رکھی جائیں یا تمہیں پڑھ کرسنائی جائیں، جو یورپ اور امریکہ میں اسلام کے خلاف لکھی گئی ہیں تو میں سمجھتا ہوں کہ ایک سنگدل سے سنگدل مسلمان کی بھی چھینیں نکل جائیں تم جس کی تعریف میں قصائد پڑھتے ہو، جس پر تم دن میں کئی بار درود بھیجتے ہو، اس کو نہایت حقیر رنگ میں لوگوں کے سامنے پیش کیا جاتا ہے۔اسے اس قسم کی گالیاں دی جاتی ہیں کہ دنیا کے کسی ذلیل سے ذلیل انسان کو بھی وہ گالیاں نہیں دی جاسکتیں۔تم ایک معمولی آدمی کو گالیاں دیتے دیکھ کر غصہ میں آجاتے ہو۔لیکن تم یہ خیال نہیں کرتے کہ اس شخص کے متعلق، جس تم اپنا ہادی، راہنما، آقا اور خدا کا فرستادہ سمجھتے ہو، لوگوں کو اتنی غلط فہمیاں ہیں کہ حد ہی نہیں۔آخر سب لوگ پاگل تو نہیں ہو گئے کہ وہ خواہ نخواہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو گالیاں دیتے ہیں۔ان میں سے بھی اکثر میں حیا اور شرافت پائی جاتی ہے۔لیکن بات یہ ہے کہ وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصل حالات اور سوانح سے ناواقف ہیں۔سینکڑوں سال مسلمان غافل رہے اور دشمن آپ کی شکل کولوگوں کے سامنے نہایت بھیانک صورت میں پیش کرتا رہا۔اور اب ان کے دلوں میں یہ بات جاگزیں ہوگئی ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم انسانیت کے شدید شمن ہیں۔میں جب انگلستان گیا تو مجھے ایک ڈاکٹر کے متعلق بتایا گیا کہ وہ دہر یہ ہے اور مجھ سے ملاقات کرنا چاہتا ہے۔میں نے اسے ملاقات کا موقع دے دیا۔اس نے دو، چار باتیں کر کے رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ذکر نہایت گندے الفاظ میں کیا۔چونکہ میں نے اس سے بات کرنے کا وعدہ کیا ہوا تھا، اس لئے میں اسے برداشت کر گیا۔لیکن دو، چار فقروں کے بعد اس نے دوبارہ آپ کی ذات پر حملہ کیا۔میں نے اسے توجہ دلائی کہ تم نے یہ کہ کر ملاقات کا وقت لیا تھا کہ تمہارا مذہب سے کوئی تعلق نہیں تم صرف عقلی گفتگو کرنا چاہتے ہو لیکن اب میں دیکھتا ہوں کہ تم بلا وجہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر حملہ کرتے ہو، یہ بات ٹھیک نہیں۔اس شخص نے میری اس بات کا جواب نہ دیا۔لیکن دو، چار باتوں کے بعد اس نے پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر حملہ کیا۔میں یہ جانتا تھا کہ اسے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کوئی نفرت نہیں لیکن آپ کے جو حالات اس نے پڑھے ہیں، ان سے اس نے سمجھ لیا ہے کہ آپ انسانیت کو گرانے والے ہیں۔اس کے رویہ کو دیکھ کر مجھے بھی غصہ آگیا اور میں نے جوابی طور پر سیخ ناصری پر حملہ کیا۔میں نے دیکھا کہ اس کا چہرہ سرخ ہو گیا اور مجھ سے کہنے لگا کہ میں مسیح کے متعلق یہ باتیں نہیں سن سکتا۔میں نے کہا تم نے مجھ سے کہا تھا کہ تمہارا عیسائیت سے کوئی تعلق نہیں لیکن پھر بھی تم مسیح کے خلاف کوئی بات نہیں سن سکتے۔تو کیا میں اتناہی بے 445