تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 437
تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد سو خطبہ جمعہ فرمودہ 03 دسمبر 1954ء سے ہوشیار کر دیا۔آپ نے فرمایا، ایک شخص رات کو مومن سوئے گا، صبح کو کا فرا اٹھے گا۔اور دن کو مومن ہوگا لیکن رات کو کافرسوئے گا۔خاں فقیر محمد صاحب نے لکھا کہ میں جوں جوں اس کتاب کو پڑھتا جاتا تھا ، سارا نقشہ میرے سامنے آتا جاتا تھا۔اور میں نے سمجھ لیا کہ میری مایوسی غلط تھی۔میری بیوی نے کہا ، اب تم آرام کرلو، کہیں پاگل نہ ہو جانا۔مگر میں نے کہا، اب میں کتاب ختم کر کے سوؤں گا۔اور ارادہ کر لیا کہ میں اس وقت تک سونے کے لئے اپنے بستر پر نہیں جاؤں گا، جب تک کہ آپ کو اپنی بیعت کا خط نہ لکھ لوں۔چنانچہ سونے سے پہلے میں آپ کو یہ خط لکھ رہا ہوں، میری بیعت کو قبول کیا جائے۔غرض ضروری ہے کہ ہم اپنے مبلغین کو بڑی تعداد میں لٹریچر مہیا کریں۔اور اس کے لئے سرمایہ کی ضرورت ہے۔اور میں نے بتایا ہے کہ ہم مالی لحاظ سے کمزور ہونے کی وجہ سے نئے مبلغ نہیں بھیج سکتے۔اسی طرح پرانے مبلغین کے لئے لائبریری کا انتظام بھی نہیں کر سکتے۔یہ کام ہم نے نئے سرے سے کرنا ہے۔ہر ملک میں کم از کم ایک، ایک کتاب کے سو سو نسخے ہوں تا کہ ایک وقت میں لاکھ ، ڈیڑھ لاکھ آدمی ہماری کتب پڑھ رہا ہو۔اگر ہم اس قسم کا انتظام کر لیں تو لازمی بات ہے کہ سمجھدار سنجیدہ، شریف اور خدا تعالیٰ سے محبت رکھنے والے لوگ آنے شروع ہو جائیں گے۔اور یہ کام بغیر اس کے نہیں ہوسکتا کہ ہمارا قربانی کا قدم ہمیشہ آگے رہے۔اگر ہم ایک جگہ پر ٹک جاتے ہیں تو ہماری وہی مثال ہوگی ، جیسے ایک نوجوان کو پانچ ، چھ سال کے بچے کا لباس پہنا دیا جائے وہ لباس یا تو پھٹ جائے گا اور اگر وہ پہنے میں کامیاب بھی ہو جائے تو ناف سے اوپر ہی رہے گا۔اور یہ بے جوڑ لباس نہ تمہیں اپنوں میں عزت دے سکتا ہے، نہ غیروں میں عزت دے سکتا ہے۔اگر تم اپنوں اور بیگانوں میں عزت حاصل کرنا چاہتے ہو تو اس کا ایک ہی طریق ہے اور وہ یہ ہے کہ تم حوصلہ اور ہمت سے کام کرو۔اگر تم خدا تعالیٰ کے رستہ میں خرچ کرو گے تو خدا تعالیٰ تمہیں اور دے گا۔پس میں دونوں دفتر والوں سے کہتا ہوں کہ تم سب ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرو۔دفتر دوم کے متعلق میں نے بتایا تھا کہ اس کی حالت نہایت افسوسناک ہے۔ان کا قدم پیچھے کی طرف جارہا ہے۔نوجوانوں کو تو بوڑھوں سے زیادہ تیز ہونا چاہئے تھا اور ان کا قدم دلیری کے ساتھ آگے بڑھنا چاہئے تھا۔اگر کوئی شخص مالی لحاظ سے یا ایمان کے لحاظ سے کمزور بھی ہو تو اسے چاہئے کہ وہ بناوٹ سے ہی ساتھ چلتا چلا جائے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب عمرہ کے لئے مکہ تشریف لے گئے اور حدیبیہ کے مقام پر آپ کو روک لیا گیا تو اس وقت آپ کے اور مشرکین مکہ کے درمیان یہ معاہدہ طے پایا کہ مسلمان اگلے سال عمرہ 437