تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 435
تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد سوم خطبہ جمعہ فرمودہ 03 دسمبر 1954ء قدر متاثر ہوا ہوں کہ آپ کو توجہ دلانا ضروری سمجھتا ہوں۔اگر آپ وہاں کوئی کام کرنا چاہتے ہیں تو اپنے مبلغوں کو اچھا کھانا اور اچھا لباس تو مہیا کریں۔اس شکایت کرنے والے دوست کو تو ہمارے مبلغین کا ظاہری لباس اور ظاہری کھانا نظر آیا۔اور مجھے یہ فکر ہے کہ ہم اپنے مبلغین کو باطنی کھانا بھی مہیا نہیں کر رہے۔ہمارے ہر مبلغ کے پاس سینکڑوں کتابوں پر مشتمل ایک لائبریری ہونی چاہئے۔تاکہ وہ ایک وقت میں سو، دوسو آدمیوں کو مطالعہ کے لئے کتب دے سکے۔بلکہ پوری طرح توجہ دلانے کے لئے ضروری ہے کہ اس کے پاس ایک، ایک کتاب کے دس دس، پندرہ پندرہ نسخے ہوں۔تا ایک ہی وقت میں ایک کتاب سے ایک سے زیادہ آدمی فائدہ اٹھا سکیں۔اگر ہر مشن میں سو کتا نہیں ہوں اور ان کے پندرہ، پندرہ نسخے ہوں تو پندرہ سو کتاب تو یہی بن جاتی ہے۔پھر کئی لوگ ایسے آجاتے ہیں، جو تفسیر ، حدیث یا کسی اور مضمون کی کتاب لینا چاہتے ہیں۔تو ہمارے لئے ضروری ہے کہ ہمارے ہر مبلغ کے پاس دو، تین ہزار کتب کی لائبریری ہو۔جو شخص ملنے کے لیے آتا ہے، وہ زیادہ سے زیادہ گھنٹہ، ڈیڑھ گھنٹہ بیٹھے گا اور باتیں سنے گا اور پھر چلا جائے گا۔لیکن اگر ہم اسے کوئی کتاب دے دیں تو وہ گھر میں بھی اسے پڑھتارہے گا اور اس طرح تبلیغ سے وہ زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھا سکے گا۔میں نے پہلے بھی کئی دفعہ سنایا ہے کہ سرحد کے ایک رئیس خان فقیرمحمد خان صاحب آف چارسدہ مرحوم ایگزیکٹیو انجینیر (بعد میں وہ سپرنٹنڈنٹ انجینئر ہو گئے۔ایک دفعہ مجھے دہلی میں ملے۔انہوں نے مجھے سے ذکر کیا کہ میرے بھائی محمد اکرم خاں صاحب احمدی ہیں۔میں سیر کے لئے انگلستان جارہا ہوں۔انہوں نے چلتے چلتے بعض کتابیں میرے ٹرنک میں رکھ دی ہیں۔میری ایک لڑکی کی منگنی ان کے لڑکے سے ہوئی ہے۔ویسے بھی مجھے ان کا بڑا ادب ہے کہ وہ میرے بڑے بھائی ہیں۔میں نے انہیں کہا، آپ نے کیا کیا ہے، میں تو سیر کے لئے جارہا ہوں، ان کتابوں کے پڑھنے کا کہاں موقع ہوگا ؟ مگر وہ مانے نہیں اور کہا، کہیں خیال آیا تو انہیں پڑھ لینا۔میں نے کہا، اچھا رکھ دو۔ولایت جا کر انہوں نے مجھے ایک چھٹی لکھی ، اس کے شروع میں یہ لکھا تھا کہ شاید آپ مجھے نہ پہچانیں، میں اپنی پہچان کے لئے لکھتا ہوں کہ میں وہ ہوں ، جو آج سے تین ماہ پہلے آپ سے دلی کے شاہی قلعہ میں ملا تھا اور میں نے آپ سے کہا تھا، ہماری دو والدہ تھیں اور ہر ایک والدہ سے ہم دو، دو بھائی ہیں۔ان میں ایک، ایک ہم نے آپ کو دے دیا ہے اور ایک، ایک غیر احمدیوں کو دے دیا ہے۔اس طرح ہم نے پورا پورا انصاف کیا ہے۔روپیہ میں سے اٹھنی آپ کو دی ہے اور اٹھنی دوسرے مسلمانوں کو۔اور آپ نے بھی غذا قاآیہ کہا تھا کہ ہم تو اٹھنی پر راضی نہیں ہوتے ، ہم تو پورا روپیہ لے کر چھوڑا کرتے ہیں۔سو 435