تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 434 of 802

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 434

خطبہ جمعہ فرمودہ 03 دسمبر 1954ء تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔جلد سوم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ان کا مقابلہ کیا۔مسلمانوں نے بھی آپ کی مخالفت کی اور یہ نہ سمجھا کہ آپ ان کی حفاظت کے لئے کھڑے ہوئے ہیں۔لیکن اب ہماری یہ حالت ہے کہ کوئی ماں کا بچہ ایسا نہیں ، جو اسلام پر کوئی اعتراض کر سکے اور پھر اس کا جواب نہ دیا جا سکے۔پس تم نے ترقی کی طرف ایک قدم اٹھایا ہے۔بیج تمہارے پاس ہے، جو بویا گیا ہے۔اور پھر وہ زمانہ تمہیں ملا ہے، جس میں تمہاری ترقی لازمی ہے۔جس طرح پانچ ، چھ سال کا بچہ یہ نہیں کہہ سکتا کہ اس نے بڑھنا نہیں، باوجود اس کے کہ اس کا ارادہ شامل نہیں ہوتا، پھر بھی وہ بڑھتا جاتا ہے ، اسی طرح خدا تعالیٰ نے تمہارے اندر ایسی روح پیدا کر دی ہے کہ تم نے بہر حال بڑھنا ہے، چاہے تمہارا ارادہ اور عزم ساتھ شامل ہو یا نہ ہو۔پھر جس طرح یہ نہیں ہو سکتا کہ پانچ ، چھ سال کے بچہ کالباس 8،9 سال کی عمر کے بچہ کو پورا آسکے ، اسی طرح یہ بھی نہیں ہو سکتا کہ تمہارے پچھلے سال کا چندہ اگلے سال کے لئے کافی ہو۔جب تک تم پہلے سے زیادہ قربانی نہیں کرو گے، جب تک تم اپنے چندے کو پہلے سالوں سے زیادہ نہیں بڑھاؤ گے، جب تک تم چندہ دینے والوں کی تعداد ہر سال بڑھاتے نہیں جاؤ گے، تمہارا لباس تمہارے جسم پر بے جوڑ معلوم ہوگا۔اگر کوئی لمبا شخص کسی چھوٹے بچے کا لباس پہننا چاہے تو اول تو وہ پہنتے پہنتے پھٹ جائے گا اور اگر وہ کسی طرح اس کو پہن بھی لے تو وہ صرف ناف تک یا اس کے اوپر تک آئے گا، باقی جسم نگارہ جائے گا ، اسی طرح تمہارے ساتھ ہو گا۔اگر تمہاری شہرت کے مقابلہ میں تمہارا کام اور تمہارا چندہ کم ہو تو سب دیکھنے والوں کو تمہارا یہ عیب نظر آئے گا۔تمہارا کام آج ہر قوم کے سامنے ہے۔جس طرح ایک کرتا قد کے برابر نہ ہو تو وہ ہر شخص کو برا نظر آتا ہے، اسی طرح اگر تمہاری قربانی اور تمہارے چندے تمہارے کام کی نسبت سے تھوڑے ہوں گے تو تمہارا یہ عیب ہر شخص کو نظر آئے گا۔کوئٹہ میں ایک فوجی افسر میرے پاس آیا اور اس نے کہا، میں ایک جگہ پر گیا ، وہاں آپ کی جماعت کا ایک مبلغ تھا اور وہ بہت اچھا کام کر رہا تھا۔لیکن میں نے دیکھا ہے نہ اسے اچھا لباس میسر تھا اور نہ اچھا کھا نا ملتا تھا۔اور اسے ہر بڑے شخص سے ملنا پڑتا تھا۔اگر آپ اسے اچھا لباس مہیا نہیں کر سکتے اور اچھا کھانا نہیں دے سکتے تو وہ تبلیغ کا کام کیسے کرے گا؟ ایک شخص نے مجھے اس سے پہلے بھی مجھے لکھا تھا ( شاید یہ وہی شخص تھا، جو بعد میں مجھے کوئٹہ میں ملا۔کہ میں سنگا پور سے آیا ہوں ، وہاں آپ کے مبلغ کام کرتے ہیں لیکن افسوس ہے کہ انہیں اچھا کھانا اور اچھا لباس نہیں مل رہا، وہ فقیروں کی طرح رہتے ہیں۔میں احمدی تو نہیں لیکن ان کی حالت دیکھ کر اس 434