تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 433 of 802

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 433

خطبہ جمعہ فرمودہ 03 دسمبر 1954ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد سوم ہی سارا زور لگا دیتے ہیں کہ کو احلال ہے یا نہیں؟ اب اگر کو احلال ثابت ہو جائے اور لوگ اسے کھانا شروع کر دیں، تب بھی اس سے کیا ہوگا؟ لیکن آپ نے وہ تعلیم پیش کی ، جس میں زندگی کے ہر شعبہ میں ہدایت ملتی تھی۔آپ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن کریم کے پیش فرمودہ اصول کو دوبارہ دنیا کے سامنے پیش کیا۔اس لئے ہر شخص نے یہ سمجھ لیا کہ اب لوگ اس تعلیم کی طرف متوجہ ہو جائیں گے۔پہلوں کے پاس نہ دونیاں ہیں، نہ چونیاں ہیں، نہ اٹھنیاں ہیں، نہ روپے اور نوٹ ہیں، پھر انہیں صراف کیسے کہا جا سکتا ہے؟ صراف کے لئے ضروری ہے کہ اس کے پاس دونیاں، چونیاں، اٹھنیاں اور روپے وغیرہ موجود ہوں۔اس کے پاس نوٹ ہوں، اشرفیاں ہوں ، صرف چند پیسے پاس ہونے سے اسے صراف نہیں کہا جا سکتا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم دنیا میں آئے تو ابتدائی 13 سالوں میں 80،90 یا بعض روایات کے مطابق 200 ، 300 لوگ آپ پر ایمان لائے لیکن آپ کی شہرت دور دور تک پھیل گئی تھی۔حبشہ اور نجد تک آپ کی تعلیم پہنچ چکی تھی اور امراء، رؤساء، فقہاء اور بادشاہوں نے آپ کی طرف توجہ شروع کر دی تھی۔اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو دیکھ لو، آپ کے ماننے والوں کی تعداد ابتداء میں 60، 50 تھی لیکن آپ کی شہرت دور دور تک پھیل چکی تھی۔اس کے مقابلہ میں جن لوگوں نے دعوی کیا ، ان کو اپنے علاقہ سے باہر کوئی جانتا بھی نہیں تھا۔اس قسم کے لوگوں کو خواہ پچاس، ساٹھ مان بھی لیں ، ان کے متعلق لوگ یہ احساس بھی نہیں کرتے کہ وہ دنیا میں کوئی تغیر پیدا کر لیں گے۔یہ لوگ روزانہ لکھتے ہیں کہ اب قیامت آجائے گی۔لیکن عملی طور پر ایک چار پائی بھی نہیں بلتی اور دنیا میں کوئی منفی یا مثبت تغیر پیدا نہیں ہوتا۔یہی ثبوت ہے، اس بات کا کہ ان کی مثال بھیڑیے کے چمڑے میں بھیٹر کی سی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ماننے والے اگر چہ تھوڑے تھے لیکن لوگوں میں ان کی وجہ سے گھبراہٹ بہت زیادہ تھی۔کیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ ان کی تعلیم دنیا کو کھا جائے گی۔اسی طرح ہماری جماعت کو دیکھ لو مخالف بڑے بڑے دعوے کرتے ہیں عوام کو بھڑکاتے ہیں، فتوے دیتے ہیں لیکن دنیا ڈرتی ہم سے ہی ہے۔اگر چہ ہم انہیں تسلیاں دیتے ہیں اور یہ کہتے کہتے تھک جاتے ہیں کہ ہم تمہارے دشمن نہیں تمہارے خیر خواہ ہیں۔لیکن پھر بھی وہ تسلی اور اطمینان نہیں پکڑتے۔کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ یہ تعلیم اس قسم کی ہے کہ جہاں بھی جائے گی ، لوگ اس کی طرف متوجہ ہو جائیں گے اور اگر ہمارے ارد گرد کے لوگوں نے ان کی باتیں سن لیں تو وہ ہمیں چھوڑ کر اس تعلیم کو قبول کر لیں گے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بعثت سے پہلے اسلام پر ہر طرف سے اعتراضات ہو رہے تھے۔کیا یہودیت اور عیسائیت اور کیا ہندو مذہب ہر ایک کے ماننے والے اسلام پر حملہ آور ہورہے تھے۔433